• KHI: Maghrib 6:47pm Isha 8:03pm
  • LHR: Maghrib 6:19pm Isha 7:41pm
  • ISB: Maghrib 6:25pm Isha 7:49pm
  • KHI: Maghrib 6:47pm Isha 8:03pm
  • LHR: Maghrib 6:19pm Isha 7:41pm
  • ISB: Maghrib 6:25pm Isha 7:49pm

سندھ میں بچوں کیلئے پولیو ویکسین لازمی قرار

شائع December 13, 2014
کراچی میں انسداد پولیو مہم میں مصروف لیڈی ہیلتھ ورکرز— آن لائن فوٹو
کراچی میں انسداد پولیو مہم میں مصروف لیڈی ہیلتھ ورکرز— آن لائن فوٹو

کراچی : سندھ حکومت نے صوبے کے ہر رہائشی خاص طور پر کراچی کی گیارہ ہائی رسک یونین کونسلز میں ہر بچے کو پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پلانا لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی مزاحمت یا مخالفت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

حکام نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے پولیو کی صورتحال کے حوالے سے ایک حالیہ اجلاس میں انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ جن علاقوں میں انہیں مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے وہاں ہر بچے کو پولیو ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے حوالے سے بتایا " جن علاقوں میں پولیو ورکرز کو مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے انہیں گھیرے میں لیا جائے اور رضاکاروں کو ویکسین بچوں تک پہنچانے کا موقع دیا جائے اور اس کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کیا جائے"۔

حکام نے تسلیم کیا کہ وزیراعلیٰ ان رپورٹس سے خوش نہیں کہ کراچی کی گیارہ ہائی رسک یونین کونسلز میں کئی بار پولیو مہمات معطل کرنا پڑی ہے کیونکہ یہی وہ علاقے ہیں جہاں شہر کے تمام 23 پولیو کیسز سامنے آئے۔

ایک پولیو مہم اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب پولیس نے دفاعی نمائش کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی ہدایت کی جبکہ پانچ دن بعد اس کا دوبارہ آغاز ہوا تو بیشتر یونین کونسلز میں رضاکار سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث کام نہیں کرسکے۔

ملک میں رواں برس سامنے آنے والے 275 پولیو کیسز میں سے 27 سندھ میں سامنے آئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے پولیو مہمات کے لیے سات سو پولیس اہلکاروں پر مشتمل خصوصی دستہ تشکیل دینے کے اعلان پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔

ایک عہدیدار نے بتایا" وزیراعلیٰ نے کراچی پولیس کو کم سے کم وقت میں ایک فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جو کراچی کے ہائی رسک علاقوں میں پولیو ورکرز کے ساتھ کام کرسکے"۔

قائم علی شاہ نے کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی گلفام قادر تھیبو کو اس فورس کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور پولیو ورکرز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا " اس فورس کو جلد تشکیل دیا جائے تاکہ ہم اپنے لوگوں، وفاق اور عالمی اداروں سے کیے گئے اس وعدے کو پورا کرسکے کہ 2015 میں سندھ پولیو سے پاک ہوجائے گا"۔

سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی اور سندھ میں پولیو کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اجلاس کو بتایا کہ سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث ملیر کے بیشتر حصوں میں گزشتہ دنوں انسداد پولیو مہم کو مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ان حالات میں انسداد پولیو مہم کا ایک دن بھی ضائع نہیں کرسکتی جب ستائیس پولیو کیسز پہلے ہی رپورٹ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم شیڈول اور پروگرام کے مطابق مکمل ہونی چاہئے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ایمرجنسی آپریشن سیل کو تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو موثر بنانا تھا مگر اس کے لیے اب تک گریڈ 20 کے ایک سنیئر افسر کی پوسٹنگ تاحال التوا کا شکار ہے، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ایک افسر کا نام دینے کی ہدایت کی۔

ای پی آئی کی صوبائی کو آرڈنیٹر شہنار وزیر علی نے اجلاس میں کہا کہ ایک پولیو پلس پروگرام شروع کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے جو پولیو کے خاتمے کی مہم کو زیادہ بامقصد بناسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈونر اداروں نے بھی پولیو پلس پروگرام کو سراہا ہے اور اس کے لیے تیکنیکی معاونت میں توسیع کا وعدہ کیا ہے، جبکہ یونیسیف پہلے ہی اس حوالے سے معاونت کررہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر صالح نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان 276 پولیو کیسز کے ساتھ دنیا میں سرفہرست آگیا جبکہ افغانستان 23 کیسز کے ساتھ دوسرے اور نائیجریا چھ کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 169 کیسز فاٹا میں رپورٹ ہوئے، جبکہ ساٹھ خیبرپختونخوا، سترہ بلوچستان، 27 سندھ اور تین پنجاب میں سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا ضلع غربی اور ضلع ملیر کا علاقہ گڈاپ وائلڈ پولیو وائرس سے متاثر ہے اور شہر میں تمام 23 کیسز ان علاقوں کی 11 یونین کونسلز میں ہی سامنے آئے ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 28 مارچ 2025
کارٹون : 27 مارچ 2025