تین اسلامی سرمایہ کاری بینکوں کو ضم کرنے کا فیصلہ
اشتراکی سرمایہ کاری میں مالیات کو بہتر اورمضبوط بنانے کے لیے تین چھوٹے اسلامی سرمایہ کاری کے حامل اداروں کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ کے اے ایس بی بینک لمیٹڈ کا کنٹرول پہلے ہی اسٹیٹ بینک سنبھال چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے مرکزی بینک کو ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ اگلے چھ ماہ کے اندر کے اے ایس بی بینک کو ازسرِ نو منظم کیا جائے یا پھر اسے ضم کردیا جائے، کیوں کہ مذکورہ بینک کم سے کم سرمایہ کی شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہا تھا۔
جمعے کو کے اے ایس بی مداربہ کی جانب سے کہا گیا کہ اُس نے پاکستان میں کام کرنے والے 26 مداربہ میں سے پاکستان کے پہلے مداربہ (فرسٹ پاک مداربہ) اور پہلے پریوڈنشل مداربہ کی مینیجمنٹ کا انتظام سنبھالا ہے۔
واضح رہے کہ مداربہ اسلامی اشتراکی سرمایہ کاری کی ایک قسم ہے جس میں آمدنی و خراجات کے تناسب پر اتفاق کے ساتھ صارفین کی جانب سے اثاثہ جات منظم کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں مداربہ کا تصور 1980 میں اُس وقت سامنے آیا تھا، جب پہلا اسلامک بزنس ماڈل ملک میں متعارف ہوا اور جسے اسلامی سرمایہ کاری کی خالص شکل قرار دیا جاتا تھا۔
یہ سیکٹر ملک کی اسلامی سرمایہ کار انڈسٹری کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے، جس میں بہت سے اداروں میں مقابلے کی سکت نہیں ہے۔
گزشتہ ہفتے حبیب بینک کے پہلے حبیب بینک مداربہ نے بھی اپنا کاروبار فروخت کردیا تھا۔
دوسری جانب سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے گزشتہ برس مداربہ کے حوالے سے ایک رِسک مینیجمنٹ گائیڈ لائن بھی مرتب کی، جس میں شرعی بینکنگ اور شرعی آڈٹ کا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا تاکہ اس شعبے کوترقی دی جا سکے۔
تاہم کے اے ایس بی بینک کے بعد دیگر اسلامی سرمایہ کاری بینکوں کو ضم کیے جانے نے مداربہ کی فعالیت کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔