داعش کے خلاف کامیابی شامی صدر کی روانگی سے مشروط
واشنگٹن : امریکی صدر باراک اوباما نے شامی ہم منصب بشار الاسد کو عہدے سے ہٹائے بغیر ریاست اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کو شکست دینا ناممکن سمجھ کر اپنے مشیروں سے شام کے بارے میں انتظامی پالیسی پر نظرثانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بات امریکی چینیل سی این این نے سنیئر امریکی حکام کے حوالے سے کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باراک اوباما کی قومی سیکیورٹی ٹیم نے گزشتہ ہفتے کے دوران چار اجلاس کیے ہیں تاکہ شام کے بارے میں انتظامی پالیسی کو ریاست اسلامیہ کے خلاف مہم کے لیے موزوں بنایا جاسکے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق صدراوباما نے اپنے مشیروں کو کہا تھا کہ وہ پالیسی پر نظرثانی کرکے اسے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالیں۔
اس نے مزید بتایا کہ شام کے مسئلے میں اب یہ حقیقت بھی شامل ہوچکی ہے کہ وہاں ریاست اسلامیہ کو شکست دیئے بغیر حالات بہتر بنانا ممکن نہیں۔
دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے ایک عہدیدار نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے ساتھ اتحادی ممالک شام میں بھی ریاست اسلامیہ پر حملے جاری رکھے گی تاکہ وہ طاقت نہ پکڑ سکے۔
اس کا مزید کہنا تھا کہ براک اوباما واضح کرچکے ہیں کہ بشارالاسد عہدے پر برقرار رہنے کا جواز کھو چکے ہیں اور اسد حکومت کو تنہا کرنے اور پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ ہم وہاں معتدل حزب اختلاف کو مضبوط کرنے پر بھی کام کررہے ہیں۔
تبصرے (2) بند ہیں