دمدار ستارے پر یورپی روبوٹ کی تاریخی لینڈنگ
برلن: یورپی اسپیس ایجنسی (ای ایس اے) کا ایک خلائی تحقیقی روبوٹ ایک دمدار ستارے (کامیٹس) کی سطح پر بدھ کے روز اتارا گیا جس کے ذریعے زمین کے نظام شمسی کے حوالے سے معلومات مل سکیں گی۔
یہ تاریخی کامیابی 100 کلو وزنی روبوٹ ’فیلے‘ کی وجہ سے ممکن ہوسکی۔ یہ مشن ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری تھا۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس دمدار ستارے سے ملنے والے نمونے سیاروں اور زندگی کے وجود پر روشنی ڈالیں گے۔
دمدار ستارے 4.6 بلین سال پہلے زمین اور اس کے نظام شمسی کے وجود میں آنے کے وقت پیدا ہوئے تھے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین پر زیادہ تر سمندری پانی ان ہی کامیٹس کے ذریعے آیا۔
لینڈنگ سے قبل ای ایس اے کے ڈائریکٹر آف ہیومن اسپیس فلائٹ اینڈ آپریشنز تھامس ریٹر نے کہا کہ ہم سائنس فکشن کو سائنسی حقیقت بنانے تک پہنچ چکے ہیں۔
روبوٹ کا لے جانے والا اسپیس کرافٹ روسیٹا دمدار ستارے تک تقریباً 6.4 بلین کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد پہنچا جبکہ اس میں دس سال، پانچ ماہ اور چار دنوں کا عرصہ لگ گیا۔اس مشن کی لاگت تقریباً 1.8 بلین ڈالر ہے۔ اس کامٹ کو 1969 میں دریافت کیا گیا تھا ۔
روسیٹہ پہلا ایسا اسپیس کرافٹ ہے جو کسی کامٹ کے مدار میں داخل ہوا ہے، اس سے قبل اسپیس کرافٹس کامٹس کے قریب سے گزر کر انکی تصاویر ہی حاصل کیا کرتے تھے۔