بارڈر کا بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ختم کرنے کا مطالبہ
سڈنی: سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر ورلڈ کپ کے علاوہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ ایک روزہ کرکٹ ختم نہیں ہوگی۔
آسٹریلیا کا ڈومیسٹک سیزن گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا جب جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔
ان میچز کو دیکھنے کے لیے شائقین کی انتہائی کم تعداد میدانوں میں موجود تھی جبکہ دونوں ٹیموں نے اپنے صف اول کے کھلاڑیوں کو ’ریسٹ‘ دیا تھا۔
بارڈر نے کہا: ’میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں کھلیوں گا بلکہ ہر دو سال بعد اپنے آپ کو ورلڈ کپ کے لیے بچا کر رکھوں گا۔‘
بارڈر نے کہا کہ پہلے ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بڑے پیمانے پر کھیلی جارہی ہے اور ہر ملک کی اب اپنی ایک الگ لیگ ہے۔ ایسی صورت حال میں بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیلے جانے چاہیئیں۔
بارڈر نے کہا: ’مجھے بہت دکھ ہوگا اگر پچاس اووروں پر مشتمل کرکٹ ختم ہوگئی۔ میرے خیال میں یہ ایک زبردست مقابلہ ہوتا ہے اور آنے والا ورلڈ کپ بہترین ثابت ہوگا۔ میرے خیال میں پچاس اوورز کی کرکٹ کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر برتری حاصل ہے۔‘
تاہم بارڈر کا کہنا تھا کہ کھیل اب بہت زیادہ بلے بازوں کے فیور میں ہوگیا ہے اور کچھ ایسے قوانین بنائے جائیں جن سے بلے بازوں کے ساتھ ساتھ باؤلروں کو بھی فائدہ پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹو ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک مرتبہ مقابلے سے باہر ہونے کے بعد واپس آنا بہت مشکل ہوتا ہے جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں ایسا کیا جاسکتا ہے۔