سندھ کے آٹھ اضلاع میں سیلاب کے پیش نظر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ
کراچی : محکمہ صحت سندھ نے ابتدائی طور پر آٹھ اضلاع کو سیلاب سے خطرہ قرار دیتے ہوئے پورے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافڈ کردی ہے جس میں زیادہ توجہ آٹھ شمالی اضلاع پر دی جائے گی۔
حکام کے مطابق جن آٹھ اضلاع کو ممکنہ سیلاب سے خطرہ قرار دیا گیا ہے ان میں گھوٹکی، سکھر، خیرپور، نوشہرو فیروز، کشمور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور شکارپور شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد نے جمعرات کو ایک اجلاس کی صدارت کے دوران ہدایات جاری کی تھیں کہ صوبے بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی جائے جبکہ ان آٹھ اضلاع پر زیادہ توجہ دی جائے۔
محکمہ صحت کے ایک ترجمان کے مطابق"ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ سیلابی پانی اپنے ساتھ بیماریوں اور مضر صحت عناصر بھی لے کر آتا ہے، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے تمام سرکاری ہسپتالوں اور دیگر چھوٹے مراکز کو ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جاسکے"۔
سنیئر حکام نے صوبائی وزیر کو اجلاس کے دوران ہسپتالوں میں عملے اور ادویات کی کمی کا بتاتے ہوئے مزید فنڈز اور تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صغیر احمد نے تعطیلات پر گئے عملے کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی تاکہ ہنگامی حالات کے خلاف محکمے کی تیاریوں کو بہتر بنایا جاسکے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعلیٰ سے خصوصی فنڈز اور آلات کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔
اجلاس کے دوران شرکاءکو طبی کیمپوں اور موبائل میڈیکل ٹیموں کی تیاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا جو ضرورت پڑنے پر لوگوں کی خدمت کے لیے دستیاب ہوں گی۔
ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا جائے گا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اس کے ترجمان مقرر کیے جائیں گے۔
حکام کو کارکردگی بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی گئی اور سیلاب کے معاملے پر دیگر محکموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا کہا گیا۔
اس سے پہلے جب سیلاب کی پہلی وارننگ جاری ہوئی تھی، اس موقع پر ہونے والے ایک اجلاس میں محکمہ صحت کے حکام نے قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی مرتب کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حاملہ خواتین پر خصوصٰ توجہ دی جائے گی، جبکہ محفوظ زچگیوں اور ویکسنیشن سمیت دیگر امور کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا تھا کہ اگر سیلاب نے شہری علاقوں کی بجائے صرف کچے کے علاقے کو نشانہ بنایا تو ایسی حاملہ خواتین کی تعداد چند ہزار ہوگی، جن کی دیکھ بھال کے لیے بہتر آلات کی ضرورت ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ صحت چاہتا ہے کہ موجودہ صورتحال سے سندھ میں جاری ویکسنیشن پروگرامز متاثر نہ ہو۔
اپنے وسائل کے ساتھ ساتھ حکومت ڈونرز اور این جی اوز سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ طے کردہ اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔
حکام کا کہنا تھا کہ یہ ہدایات تمام اضلاع اور ٹاﺅن ہیلتھ افسران کو ارسال کردی گئی ہیں کہ وہ تمام ضروری ادویات کے اسٹاک اور دستیابی کو یقینی بنائیں، جن میں سانپ کے کاٹے کا تریاق بھی شام ہے۔