• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm

فرانز کافکا، تم بھی۔۔۔

شائع June 3, 2014
فرانز کافکا۔- آن لائن فوٹو
فرانز کافکا۔- آن لائن فوٹو

فرانز کافکا کو بھی مرنا تھا سو وہ بھی مر گیا، دیکھئے کافکا جیسے لوگ بھی مر جاتے ہیں، حالانکہ ان کو تو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے، نہ پیدا ہوتا اور نہ تین جون 1924 کو تمام انسانوں کی طرح مرتا، آخر ضرورت ہی کیا تھی اسے وہ سب لکھنے کی، یہ سب لکھنے کی، کوئی ضرورت نہ تھی۔

مگر یہ ضرروت کا لفظ بھی عجیب ہے، اس سے روزگار کی بو آتی ہے، اس سے روزمرہ کا گمان ہوتا ہے، اس سے کارخانہ حیات کی ٹھک ٹھک سنائی دیتی ہے۔

اب دیکھئے، آخر (کے) کو کیا ضرورت تھی اس گاؤں میں جانے کی یا پھر اس قلعے کے قریب پہنچنے کی جہاں تک رسائی ممکن نہیں، جہاں بابو لوگ بیٹھ کر دوسروں کی خبر رکھتے ہیں۔

ان دوسروں کی جو ان سے مقام اور مرتبے میں کم ہوتے ہیں، جہاں اسرار کی دنیا ہے، وہ اسرار جو عام آدمی کو مصروف تو رکھتے ہیں لیکن ان پر کبھی کھلتے نہیں، آخر کافکا کو کیا ضرورت تھی۔

یہی معاملہ گریگور سامسا کا ہے، بھلا بتائیے جب آپ انسان سے ایک کیڑے میں تبدیل ہو ہی چکے ہیں تو پھر حفظ مراتب، انسانی رشتوں کی اونچ نیچ اور افسرکی جھڑکیوں سے آپ کا کیا لینا دینا؟

اور محبّت؟ کیڑے کب کسی سے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں، کیڑوں کا کام تو رینگنا اوراپنے لیے اچھا، تاریک کونہ تلاش کرنا ہوتا ہے جہاں کسی کی حقارت بھری نگاہ، کسی کا بھاری بھرکم جوتا، اور کسی کی تنکوں والی جھاڑو ان تک نہ پہنچ سکے۔

اور جوزف (کے) نے تو حد ہی کر دی، اگر آپ بغیر کسی وجہ کے، بغیر کسی سبب کے، بغیر کوئی جرم کیے گرفتار ہو ہی گئے ہیں تو اس میں الجھنا کیسا؟ یہ دنیا ہے، یہاں اتھارٹی کی اتھارٹی چلتی ہے، چاہے وہ اتھارٹی دیدہ ہو یا نادیدہ، چاہے وہ اتھارٹی آفیشل ہو یا اَن آفیشل۔

کیا ہوا اگرعدالت کا کمرہ ڈھونڈنا دشوار ہے، اگرعدالت ایک ایسی جگہ محسوس ہو رہی ہے جو خواب ختم ہونے سے پہلے کا عندیہ دے رہی ہو مگر خواب ختم ہونے کا نام نہ لے؟ اس پر آپ اپنی کیفیت بتانے کے لیے ایک تقریر بھی کردیں۔

کمال ہو گیا، بھئی یہ دنیا ہے، یہاں سب کچھ کسی سبب کے تحت نہیں ہو رہا ہوتا، بہت سی چیزیں بے سبب بھی ہوتی ہیں۔

یہاں ہر چیز کے معنی نہیں ہوتے، بہت سی چیزیں بے معنی ہوتی ہیں اور یہ بات ہم پاکستانیوں سے زیادہ کس کو معلوم ہوگی۔

کافکا، تم بھی۔۔۔۔۔۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025