غلام عبّاس کا ناولٹ
یہ کہنا کوئی نئی بات نہ ہوگی کہ غلام عبّاس کا شمار اردو ادب کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے، ان کے افسانے' آنندی' کوشاہکار کا درجہ دیا جا چکا ہے اور اس سے متاثر ہو کر ہندوستان میں ایک فلم بھی بن چکی ہے۔
لیکن بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ انہوں نے ایک ناولٹ بھی لکھا تھا جس کا نام تھا 'جزیرہ سخنوراں'۔
یہ ناولٹ آخری بار 1980 کی دہائی میں ہندوستان میں چھپا تھا اور پھرکہیں گم ہوگیا، بھلا ہو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور آصف فرخی کا کہ انہوں نے اب اس کہانی کو دوبارہ چھاپ دیا ہے۔
اس کے لیے بدھ کے دن 'او یو پی' کی خالد بن ولید روڈ پر موجود دوکان میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں آصف فرخی، رؤف پاریکھ اور غلام عبّاس کی صاحبزادی مریم شیرا نے اپنے خیالات سب کے سامنے رکھے۔
تقریب میں مریم شیرا نے اپنے والد کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کیے، انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو پرانی کتابیں جمع کرنے کا بہت شوق تھا، وہ اکثر اپنے بچوں کے ساتھ بندر روڈ پرانی کتابیں خریدنے کی غرض سے جاتے اور ڈھیر ساری کتابیں خرید کر لے آتے۔
رؤف پاریکھ نے کہا کہ 'جزیرہ سخنوراں' ایک فرانسیسی ادیب کی کہانی سے متاثر ہو کر لکھا گیا اور یہ پاکستان بننے سے پہلے چھپا تھا لیکن اس کے بعد ہندوستان میں تو ایک بار چھپا لیکن پاکستان میں نہیں۔
ناولٹ کی کہانی ایک ایسے جزیرے کے گرد گھومتی ہے جہاں صرف دو طرح کے لوگ رہتے ہیں، ایک شاعر اور دوسرے ان کے مداح- شاعر حاکم ہیں اور مداح محکوم،
کسی کو اگر ترقی کرنا ہے تو اس کے لیے شاعر بننا پڑے گا۔ یہ کہانی، پاریکھ صاحب کے مطابق، ایک طنزیہ کہانی ہے۔
آصف فرخی جنہوں نے ناولٹ کے ساتھ غلام عبّاس کی دوسری کہانیوں کا ایک مجموعہ بھی چھاپا ہے کہا کہ غلام عبّاس کی تحریروں میں اپنے وقت سے آگے دیکھ لینے کی صلاحیت تھی، جس کا علم 'دھنک' جیسے افسانوں سے ہوتا ہے۔