موہٹا پیلس میں نادر نقشوں کی نمائش
جو لوگ تاریخ سے نہیں سیکھتے تاریخ انہیں سبق نہیں سکھاتی بلکہ انہیں ان کی اپنی جڑوں سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیتی ہے اور جو لوگ تاریخ کی اہمیت کو جانتے ہیں وہ حقیقت اور سچائی دونوں سے جڑے رہتے ہیں۔
کراچی کے موہٹا پیلس میوزیم میں 16 مئی سے شروع ہونے والی نادر نقشوں اور پرنٹس کی نمائش ایک ایسی شاندار کاوش ہے جسے سراہے جانے کے ساتھ ساتھ ان نقشوں اور پرنٹس کی مدد سے اپنے ماضی کے اہم ادوار میں بھی جھانکنا چاہیے۔
نمائش میں فقیر سید اعجازالدین جیسے نامور تاریخ سے محبّت کرنے والے اور دوسرے نامی گرامی اشخاص، جیسا کہ جمشید مارکر، کے ذاتی کلیکشن سے نقشے اور پرنٹس حاصل کئے گئے ہیں جن کی چھپائی پانچ صدیوں پر محیط ہے، یعنی پندرہویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک۔
اس میں بابائے تاریخ ہیروڈوٹس کے 'ویو آف ورلڈ' سے لے کر ابن الوردی کا دنیا کا نقشہ بھی شامل ہے جو کہ 1481 میں ترکی میں چھپنے والے ایک منسکرپٹ سے لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نمائش میں کچھ ایسے عمدہ پرنٹس بھی ہیں جنہیں دیکھ کر ناظر دنگ رہ جاتا ہے، مثال کے طور پر مشہور جرمن آرٹسٹ فرانززیور ونٹرہالٹر کا انیسویں صدی میں بنایا ہوا مہا راجہ دلیپ سنگھ کا پورٹریٹ۔
نمائش جسے موہٹا پیلس میوزیم نے فقیر اعجازالدین، سندھ آرکائیوز اور جامیه ملّیہ کے اشتراک سے پیش کیا ہے، چھ ماہ تک جاری رہے گی۔