• KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am
  • KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am

مردم شماری اور اتفاق رائے

شائع January 21, 2014

وزیر اعظم نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ مردم شماری اسی سال ہوگی- آخری بار مردم شماری انہیں کی پچھلی حکومت میں 1998 میں ہوئی تھی- نوآبادیاتی روایت یہ رہی ہے کہ مردم شماری ہر دس سال بعد اس سال ہوا کرتی تھی جو 1 کے ہندسے پر ختم ہوتا تھا جیسے، 1961،1951 وغیرہ- پاکستان میں 1981 تک تو مردم شماری ہوئی لیکن جو مردم شماری 1991 میں ہونا تھی وہ سات سال تک نہ ہوسکی اور اسکے بعد جو مردم شماری ہونا تھی اس میں بھی پانچ سال کی تاخیر ہو چکی ہے-

دونوں ہی دفعہ تاخیر کی ایک وجہ تو انتظامی مسائل تھے، لیکن اہم وجہ یہ تھی کہ حکومتوں کو اعتماد نہیں تھا کہ وہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا مقابلہ کرسکے گی-

مردم شماری سے ہمیں اعداد و شمار حاصل ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر مالیاتی وسائل اور سیاسی اقتدار میں مختلف گروہوں کے حصے کا فیصلہ کیا جاتا ہے- چاروں وفاقی اکائیوں کے حصوں کا تو تقریباً فیصلہ ہوچکا ہے اور اس مقصد کے لئے قومی مالیاتی کمیشن جیسی تنظیمں قائم ہوچکی ہیں- لیکن اب صوبوں کے اندر تقسیم زیادہ متنازعہ بنتی جارہی ہے-

سندھ کی سیاست نسلی سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان اقتدار کے نازک توازن پر مبنی ہے- اگر نئی مردم شماری کے نتیجے میں فی صد میں کچھ کمی بیشی ہوئی تو ایسی صورت میں کچھ رد و بدل کی ضرورت پڑ سکتی ہے- اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی وہ گروہ جو اپنی اپنی سیاسی شناخت چاہتے ہیں، مثلاً پنجاب میں سرائیکی، خیبر پختونخوا میں ہزارہ اور بلوچستان میں پشتون، وہ یہ جاننے کے خواشمند ہونگے کہ مردم شماری کے نتائج ان کے مطالبات اور کاز پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں-

تمام گروہ جو ریاستی اقتدار اور وسائل میں اپنا حصہ چاہتے ہیں وہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے بارے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہیں شکایت ہے کہ ان کی تعداد کو کم کرکے بتایا جارہا ہےجسے وہ ایک طرح کی سازش سمجھتے ہیں تاکہ انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جاسکے-

بعض صورتوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان غلط فہمیوں کی وجہ ان کی ناجائز خواہشیں بھی ہوسکتی ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ وہ بے اعتمادی ہے جو ہمیں اپنی حکومتوں کے بارے میں ہے کہ آیا وہ کوئی ایسا کام انجام دے سکتی ہیں جس کے لئے سب سے آگے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہو؟

ہم ایک ایسی ریاستی مشنری پر کس طرح بھروسہ کر سکتے ہیں جو دو دہائیوں سے زیادہ مدت گزر جانے کے باوجود کمسن بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں ناکام رہی؟

آنے والی مردم شماری کے بارے میں بھی اسی قسم کے خدشات ہوسکتے ہیں لیکن ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے ان خدشات کو بڑی حد تک دور کیا اجاسکتا ہے- مئی 2011 میں جنرل اسٹیٹسٹکس ایکٹ منظور کیا گیا تھا جس کے تحت تین اداروں کو ضم کردیا گیا تھا یعنی، دی فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس، مردم شماری کا ادارہ اور زرعی شماریات کا ادارہ اور اسے 'پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس' کا نام دیا گیا تھا- اسکے نتیجے میں دہرانے کے عمل کا پرانا مسئلہ حل ہو گیا تھا-

اداروں کے لئے شماریات کی تعریف بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے- الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کی تیاری کے وقت جو حلقہ بندی کی تھی وہ اس نقشہ کے مطابق نہیں تھی جو مردم شماری کے ادارہ نے تیار کی تھی- اس کے علاوہ نادرا نے شناختی کارڈ جاری کرنے کے لئے اپنا علیحدہ کوڈ استعمال کیا تھا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تینوں ایک دوسرے کے اعداد و شمارسے فائدہ نہ اٹھا سکے-

خوش قسمتی سے، اب اس بات پر سمجھوتا ہو گیا ہے کہ بنیادی شماریاتی یونٹوں کو ملا دیا جائے اور اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ یہ کام گوگل سیٹیلائٹ نقشے کا بیورو انجام دے رہا ہے-

ان اقدامات کی وجہ سے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کا کام اور بھی موثّر ہوجائے گا لیکن مردم شماری کے لیئے محض اتنا ہی کافی نہیں- شماریاتی حدبندیاں بنیادی طور پر آسانی کی خاطر کی جاتی ہیں، خواہ مختلف شعبے ان حد بندیوں پر متفق ہوں یا نہ ہوں- یہ انتخابی حلقوں کی بنیاد بن جاتے ہیں- انتخابی حلقوں کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ شماریاتی یونٹوں کو نظرانداز کریں- چنانچہ، درحقیقت شماریاتی یونٹ سیاسی یونٹوں کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں- کیا معاملہ اس کے برعکس نہیں ہونا چاہئے؟

یہ بات جمہوری طرز حکومت کے نقطہ نظر سے اہمیت رکھتی ہے کہ انتظامی حلقہ بندیاں سیاسی/انتخابی حلقہ بندیوں کے عین مطابق ہوں اور مردم شماری کرنے والا عملہ ان کے مطابق کام کرے-

اسی طرح مردم شماری کے سوالنامے میں جو سوالات شامل کئے گئے ہیں ان کے تعلق سے کئی ایک مسائل ہیں- مثال کے طور پر ازدواجی حیثیت کے بارے میں جو باتیں پوچھی گئی ہیں ان کے ذریعے شادی کی اوسط عمر معلوم کرنا ناممکن ہے، جو بعض معاملات میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں-

جنس کے تعلق سے بھی کئی ایک بے ضابطگیاں موجود ہیں جنھیں دور کرنا ضروری ہے-1998 کی مردم شماری میں پہلی بار ایسے سوالات شامل کئے گئے تھے جن کی مدد سے مختلف ضلعوں اور علاقوں میں بچوں کی شرح اموات اور ماؤں کی شرح اموات معلوم کی جاسکتی ہے- لیکن اس فارم کے ذریعے جو اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں وہ ان اعداد و شمار سے بالکل مختلف ہیں جو دیگر اداروں نے حاصل کئے ہیں-

لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ سوالات ہیں جو حساس سیاسی نوعیت کے ہیں- 1981 کی مردم شماری میں ہندکو بولنے والوں کے لیئے علیحدہ خانہ تھا جبکہ سرائیکی بولنے والوں کو 'دیگر' کے خانے میں شامل کیا گیا تھا- اس کے بعد جو مردم شماری ہوئی اس میں اس سوال کو بالکل الٹ دیا گیا تھا- اب یہ دونوں اور دیگر لسانی گروہ بھی اس قسم کے انحراف کو نظرانداز نہیں کرینگے-

دی جنرل اسٹیٹسٹکس ایکٹ کے تحت قومی اور صوبائی سطحوں پر "یوزرس کونسلس" قائم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے- نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل یہ کونسلیں مشاورتی نوعیت کی ہونگی- ان کے ذریعے اس بات کا بہترین موقع ملے گا کہ مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں گی اور اس کے علاوہ متنازعہ معاملات میں اتفاق رائے بھی پیدا کیا جاسکے گا- اگر حکومت ان تنظیموں کو بر وقت قائم کردے اور اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی ان میں بڑے پیمانے پر شرکت کرینگی تو اس کے نتیجے میں مردم شماری کی قانونی حیثیت مضبوط ہوجائیگی اور یہ اس دلدل سے نکل آئیگی جس میں یہ پچھلے پچیس سال سے پھنسی ہوئی ہے-

برصغیر میں مردم شماری 1881 میں پہلی بار بیک وقت کروائی گئی تھی- اس کے ذریعے پہلی بار ہمارے عوام کو مذہب، ذات اور عقیدوں کی بنیاد پر بانٹا گیا تھا- اس کے ذریعے نو آبادیاتی حکمرانوں کو تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کو موثّر طور پر استعمال کرنے کا موقع ملا تھا- اگر ایک مکمل طور پر جمہوری طریقے سے کام کرنے والی حکومت کو اس طرز عمل کو بدلنا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اعداد وشمار جمع کرنے کے ان طریقوں میں اصلاحات کرے-

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: سیدہ صالحہ

طاہر مہدی

لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر TahirMehdiZ@ کے نام سے لکھتے ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025