• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

بغداد: بم دھماکوں اور پُرتشدد واقعات میں 68 ہلاکتیں

شائع December 17, 2013
فائل فوٹو—اے ایف پی۔
فائل فوٹو—اے ایف پی۔

بغداد: عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے قریب شیعہ زائرین پر ہوئے کار بم حملوں، سٹی کونسل ہیڈ کوارٹر اور پولیس اسٹیشن پر شدت پسندوں کے حملوں میں کم سے کم 68 افراد ہلاک ہوگئے۔

عراق میں گزشتہ کئی مہینوں کے برعکس پیر کو ہونے والے واقعات میں زیادہ تر شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس ہی دوران شدت پسندوں نے صوبہ صلاح الدین میں انتہائی آسانی کے ساتھ سٹی کونسل اور ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔

عراق میں فرقہ وارانہ پُرتشدد واقعات میں جتنا اضافہ اب دیکھنے میں آرہا ہے، شاید 2008ء سے نہیں دیکھا گیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق بغداد کے جنوب میں واقع راشد نامی علاقے میں شیعہ زائرین کو دو کار بم حملوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور کم سے کم پچاس زخمی ہوگئے۔

ان واقعات کا ذمہ دار القاعدہ سے منسلک سنی شدت پسندوں کو ٹہرایا جاتا ہے جو عراق میں شیعہ اکثریت والے علاقوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے شہر تکریت میں شدت پسندوں نے شہر کے کونسل ہیڈکوارٹر کے قریب ایک کار بم دھماکہ کیا جس کے بعد انہوں اس کی عمارت پر قبصہ کرلیا۔

آخری اطلاعات آنے تک تمام ملازم عمارت کے اندر ہی محصور تھے۔

عراق کی انسدادِ ہشت گردی کی سروس کے ترجمان صباح نواری کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے عمارت کو گھیرے میں لے کر ایک حملہ آور کو حراست میں لیا، جبکہ ابھی تک 40 افراد کو باہر نکالا جاچکا ہے۔

انہوں نے عالمی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عمارت کے اندر سے تمام یرغمالیوں کو بازیاب کروایا جاچکا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران ایک خود کش حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا اور دو نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ایک پولیس کے میجر اور ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سٹی کونسل کے ایک رکن سمیت دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ آیا ابتدائی حملے میں ہلاک ہوئے یا بعد میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں۔

اس سے قبل صلاح الدین میں ہی ایک پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ آورز نے حملہ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے گیٹ پر ہی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ باقی تین حملہ آوروں نے اسٹیشن کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس آفیسر اور ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

بعد میں سیکیورٹی فورسز نے اسٹیشن پر حملہ کیا جس میں ایک شدت پسند ہلاک اور دو نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ صوبہ تکریت میں ہی مسلح افراد نے ایک آئل پائپ لائن کی حفاظت کرنے والے تین اہلکاروں کو ہلاک کردیا، جبکہ اس ہی طرح کے ایک اور واقعے میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب پیر کو شمالی شہر موصل میں شدت پسندوں نے ایک مسافر بس بم فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025