اور اب وائرلیس بجلی
ایک امریکی ماہر نے وائرلیس اور ہوا میں موجود بڑے بڑے غباروں کے ذریعے بجلی کو سینکڑوں کلومیٹر دور بھیجنے پر کام شروع کیا ہے جس سے اندھیروں میں ڈوبے علاقوں کو ہنگامی بنیادوں پر فوری طور پر بجلی فراہم کی جاسکے گی ۔
نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اسٹیفن بلینک نے خیال پیش کیا ہے کہ ہوا میں معلق رہنے والے اجسام مثلاً ہیلی کاپٹر یا پھر بڑے غباروں سے سینکڑوں کلوواٹ بجلی سینکڑوں کلومیٹر کے فاصلے تک بھیجی جاسکتی ہے۔
بجلی کے مرکز سے بجلی کو پہلے لیزر میں بدلا جائے گا اور یہ طاقتور لیزر دور تک بھیجی جاسکے گی اور جس مقام پر یہ لیزر پڑے گی وہاں سے دوبارہ اس کی توانائی کو بجلی میں بدلا جاسکے گا۔
اس کا سب سے پہلا استعمال قدرتی آفات اور حادثات کی صورت میں ہوسکتا ہے مثلاً فلپائن میں آنے والا حالیہ طوفان یا پاکستان کے زلزلے اور سیلاب وغیرہ
بینک فلپائن کے طوفان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ساحل کے پاس ایک جہاز میں چھوٹا ایٹمی بجلی گھر یا جنریٹر ہوگا اور یہاں سے لیزر میں چھپی بجلی کو کسی دوسرے علاقے تک بھیجا جاسکے گا۔ وہ اپنا یہ تصور اگلے سال مارچ میں ہونے والی ایک ایئروسپیس کانفرنس میں پیش کریں گے۔
اس منصوبے کا سب سے مرکزی مقصد یہ بھی ہے کہ خلا میں زمین کے گرد گھومنے والے کسی سیٹلائٹ یا خلائی بجلی گھر سے بجلی کو زمین پر شعاع ( ریز) کی صورت میں گرایا جائے۔
اس ٹیکنالوجی پر جاپان نے بہت کام کیا ہے کہ اور اگلے تیس سال میں خلا سے ایک گیگاواٹ بجلی تیار کرنے اور اسے زمین پر لانے کیلئے اکیس ارب ڈالر کی رقم بھی رکھی ہے۔
واضح رہے کہ بغیر تار کے بجلی کی فراہمی پر ایک عرصے سے کام جاری ہے لیکن بجلی کو لیزر اور دوبار لیزر کو بجلی میں تبدیل کرنے کا تصور قدرے نیا ہے جو اپنے ساتھ کئی عملی پہلو رکھتا ہے۔