نقطہ نظر کیلاشی ثقافت کے رنگوں میں پِنہاں فِکریں کیلاش کے بارے میں یہ تاثر غلط اور من گھڑت ہے کہ یہاں پر خواتین کو فروخت کیا جاتا ہے۔
نقطہ نظر کمال بن اور دیودار کے جدِ امجد کی فریاد دنیا کے شوروغل سے دور اس خوبصورت سیاحتی مقام پر قدرت کی رعنائیوں سےمحظوظ ہوکر میں خود کو بہت خوش نصیب محسوس کرنے لگا تھا
نقطہ نظر گبین جبہ، جس کے حُسن نے ہمیں لاجواب کردیا گروپ بضد تھا کہ سوات کے کسی ایسے مقام کی سیر کی جائے جو نئی ہو یا پھر جس کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو خبر ہی نہ ہو۔
نقطہ نظر قصہ کمراٹ کی وادی کا چاہے موسمِ گرما ہو،خزاں، بہار یا پھر جما دینے والی سردی،وادی کمراٹ جس روپ میں بھی ملی، حیران کیا اور فرحت بخش احساس دیا۔
نقطہ نظر آنسو جھیل: قدرت کی آنکھ سے ٹپکا ایک خوشی کا آنسو دوستوں کے مطابق اس چڑھائی کے بعد آنسو جھیل نظر آجاتی ہے لیکن اس چڑھائی کو دیکھ کر ہمارے اپنے آنسو نکلنے شروع ہوگئےتھے
نقطہ نظر دیوسائی کا دیومالائی حسن یہ پھول محض ایک ڈیڑھ مہینے کے لئے عالم عدم سے عالم وجود میں آتے ہیں، غدر برپا کرتے ہیں اور مدہوش کن خوشبوئیں پھیلاتے ہیں
نقطہ نظر فلپائن: خوبصورت جزیروں، فطرت کے رنگوں اور ایڈونچر کی دنیا کا نام فلپائن میں شرح خواندگی 95 فیصد ہے۔ یہاں کا معیار تعلیم بہت اچھا اور یورپ و امریکا کی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں سستا ہے۔
نقطہ نظر نوری جھیل؛ جس کو دریافت کرنا تمام خوشیوں سے بڑھ کر لگا جھیل پر پہنچے تو فطرت کے اس تحفے کو دیر تک دیکھتے رہے اور سچ پوچھیے تو ٹریک کی دشواریوں کا ثمر بہت ہی میٹھا ثابت ہوا۔
نقطہ نظر منجمد سیف الملوک کو دیکھنے کی آرزو بالاخر پوری ہوگئی سردی ہو گرمی، 10578 فٹ بلند سیف الملوک جھیل ہمیشہ سے ہی پاکستان اور پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے
نقطہ نظر ملتان: عقیدت و گُل کی مہک اور درد ملتان کے اس مختصر دورے میں پھولوں سے خاص وابستگی قائم ہوئی، لوگوں کا درد محسوس کیا،جو شاید تاحیات روح میں رچا بسا رہے۔
نقطہ نظر کینیا کا شہر نیروبی، قدرتی حسن اور وہاں چھپی اداسی کینیاکا سن کر خیال آتا ہے کہ وہاں سیروتفریح کے لیے کیا ہوگا؟لیکن آپ کوقدرتی خوبصورتی سےلگاؤ ہےتوآپ کو ضرور یہاں آناچاہیے
نقطہ نظر پٹری کی خاموش چیخیں، بابِ خیبر اور تورخم بارڈر باب خیبر کے قریب تاریخی جمرود قلعہ جسے پاکستان کے قدیم مقامات میں اعلی مقام حاصل ہے اور یہ سیاحوں کے لیے بھی اہم جگہ ہے
نقطہ نظر نانگا پربت، کوہ پیماؤں کا مقتل بھی، جنوں بھی نانگا پربت مہمات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ اب تک 335 کوہ پیما اس قاتل پہاڑ کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔