شام: باغیوں کی برق رفتار پیش قدمی، فورسز صدر بشارالاسد کا اقتدار بچانے کیلئے کوشاں
شامی باغیوں نے تیز رفتار پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے جنوبی شام کے بیشتر حصوں پر قبصے کا دعویٰ کیا جبکہ حکومتی افواج صدر بشار الاسد کی 24 سالہ حکمرانی کو بچانے کے لیے مرکزی شہر حمص کی مورچہ بندی میں مصروف عمل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق باغیوں نے جنوبی قنیطرہ، درعا اور السویدا پر قبضے اور دارالحکومت کے 50 کلومیٹر اندر پیش قدمی کرنے کا دعویٰ کیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن اور شامی فوجی ذرائع نے باغیوں کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور شہر کے گرد مورچہ بندی کے لیے فورسز کے پہنچنے کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
دریں اثنا باغیوں نے جنوب مغربی شام کے مکمل حصے پر غلبہ حاصل کرنے کے علاوہ صنمین شہر پر قبضے کا دعویٰ کیا۔
باغیوں کی جانب سے حالیہ پیش قدمی نے عرب دارالحکومتوں میں خوف کی فضا اور علاقائی عدم استحکام کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے، اس حوالے سے قطر نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام سے اس کی علاقائی سالمیت کو خطرات لاحق ہیں۔
دوسری جانب عینی شاہدین نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حکومت مخالف مظاہرین نے جرمانا شہر کے نواحی علاقے میں شامی صدر بشارالاسد کے مرحوم والد کے مجسمے کو زمیں بوس کردیا۔
ادھر مغربی عہدیداران نے کہا ہے کہ شامی فوج مشکل صورتحال سے دوچار ہے جو باغیوں کو پیش قدمی سے روکنے اور انہیں پیچھے دھیکلنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔
خیال رہے کہ شامی صدر بشارالاسد نے باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں طویل عرصے سے اتحادیوں پر انحصار کیا ہے تاہم روس کی توجہ 2022 سے یوکرین جنگ پر مرکوز ہے جبکہ حزب اللہ کی قیادت کو رواں سال اسرائیل کے ساتھ جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
شام کی صورتحال کے پیش نظر روس نے جمعے کے روز اپنے شہریوں سے انخلا کی درخواست کی ہے جبکہ ایرانی حکام کے مطابق وہ پہلے ہی اپنے سفیروں کے اہلخانہ کو واپس بلا چکا ہے۔
باغیوں نے جمعے کو دیر گئے حمص کے شمالی مضافات میں آخری گاؤں پر قبضے کے بعد شہر کے بالکل قریب ہونے کا دعویٰ کیا۔
حمص شہر کے رہائشی نے بتایا کہ جمعے تک صورتحال معمول کے مطابق تھی تاہم صدر بشارالاسد کے حامی مسلح گروپوں کی جانب سے چیک پوائنٹس کے قیام، فائرنگ اور بم دھماکوں کی آوازوں کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔
دارالحکومت اور بحیرہ روم کے درمیان اہم سنگم حمص شہر پر قبضے کے بعد دمشق کا روسی اتحادیوں کے بحری اور فضائی اڈوں سے رابطہ منقطع ہوجائے گا۔
باغیوں کے اتحادی گروپ حیات التحریر الشام (ایچ ٹی ایس) نے شامی صدر کی حکومت سے منسلک جنگجوؤں سے دستبرداری کی حتمی اپیل جاری کی ہے جبکہ باغیوں کی پیش قدمی سے قبل حمص شہر سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوب میں درعا اور سویڈا پر قبضہ دارالحکومت پر ایک مربوط حملے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
باغی ذرائع نے بتایا ہے کہ فوج نے ایک معاہدے کے تحت درعا سے منظم انخلا پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت فوجی حکام کو تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں واقع دارالحکومت دمشق تک محفوظ راستہ دیا جائے گا۔
13 سال قبل خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے ایک لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل شہر درعا کو بغاوت کے مرکز کی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب مشرقی حصے میں امریکی حمایت یافتہ اتحاد جس کی قیادت شامی کرد جنگجو کر رہے ہیں نے جمعہ کو دیر الزور پر قبضہ کر لیا ہے جو حکومت کا وسیع صحرا میں اہم گڑھ تھا۔
3 شامی ذرائع نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اس سے بشارالااسد کی عراق میں اتحادیوں کے ساتھ زمینی رابطہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔
دریں اثنا ترک خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ شامی کرد جنگجوؤں نے باغی فورسز حکومتی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بعد حمص صوبے کے تاریخی شہر تدمر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق شام، عراق اور اردن کے سنگم پر التنف کے علاقے میں سرگرم شامی آزاد فوج نے حمص کے مشرقی دیہی علاقوں میں حکومتی افواج کے خلاف اہم پیش رفت کی ہے۔
حکومتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد مخالف گروپ نے حمص اور دیر الزور کے درمیان واقع قصبے السخنہ، کریتین کے گاؤں، دمشق اور حمص کے درمیان اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل پہاڑی گراب پر کنٹرول حاصل کرلیا۔