جو لوگ کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار ہوتے ہیں ان میں بلڈ کلاٹس سے شریانیں بند ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو جان لیوا ہوسکتا ہے۔
اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق میں دیکھا گیا کہ خون پتلا کرنے والی اینٹی پلیٹلیٹ ادویات مریضوں میں اس خطرے کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں یا نہیں۔
امپرئیل کالج لندن اور برسٹل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ ادویات جیسے اسپرین سے کووڈ سے بہت زیادہ بیمار افراد کے علاج میں مختصر المدت بہتری کے حوالے سے کچھ خاص مدد نہیں ملتی۔
مگر تحقیق میں دریافت کای گیا کہ جن مریضوں کو یہ ادویات دی گئی ان کا آنے والے 3 مہینوں تک زندہ رہنے کا امکان بڑھ گیا۔
اس کلینکل ٹرائل میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی، نیپال، نیدرلینڈز اور برطانیہ کے 105 ہسپتالوں میں زیرعلاج کووڈ کے بہت زیادہ بیمار مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔
ان میں سے کچھ کو اسپریم کا استعمال کرایا گیا جبکہ کچھ کو ایک اور قسم کی اینٹی پلیٹلیٹ دوا clopidogrel اور کچھ کو کوئی دوا نہیں دی گئی۔
تحقیق میں بنیادی توجہ اس بات پر دی گئی کہ یہ ادویات کس حد تک مریضوں کی سپورٹ مشینوں کے دورانیے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ مختصر المدت میں یہ ان ادویات کا استعمال کرنا یا نہ کرنے سے مریضوں کی حالت کے نتائج ملتے جلتے تھے۔
مگر تحقیق کو مریضوں کی حالت میں پیشرفت کے لیے 90 روز تک جاری کیا گیا اور دریافت ہوا کہ جن افراد کو اینٹی پلیٹلیٹس ادویات استعمال کرائی گئی ان میں زندگہ بچنے کا امکان طویل المعیاد بنیادوں پر ان ادویات کو استعمال نہ کرنے والوں سے زیادہ ہوگیا۔
محققین نے کہا کہ یہ نتائج خوش آئند ہیں اور یہ بات دلچسپ ہے کہ ان ادویات سے لائف سپورٹ سسٹم کے دورانیے پر تو کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے مگر طویل المعیاد بنیادوں پر زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
اب محققین کی جانب سے ان دونوں ادویات کی آزمائش قریب المرگ مریضوں پر کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ کن مریضوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔