یعنی وہ مریض 5 دن کے بعد بھی دیگر افراد کو اس وبائی مرض کا شکار بناسکتے ہیں۔
یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
نیشنل انسٹیٹوٹ آف انفیکشیز ڈیزیز کے ابتدائی ڈیٹا میں عندیہ دیا گیا کہ بیماری کی تشخیص یا علامات ظاہر ہونے کے بعد وائرل آر این اے کی مقدار 3 سے 6 دن بعد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
جاپان میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کو وبائی امراض کے قانون کے تحت ہسپتال میں داخل ہونا ہوتا ہے اور ان کو اسی وقت ڈسچارج کیا جاتا ہے جب مسلسل 2 نیگیٹو پی سی آر ٹیسٹ ہوتے ہیں۔
اس کے باعث ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ اس طریقہ کار سے لوگوں کا ہسپتال میں قیام طویل ہوسکتا ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے اس نئی تحقیق پر کام کیا گیا۔
تحقیق میں نظام تنفس کے نمونوں میں کورونا وائرس کے آر این اے کی جانچ پڑتال کے لیے 21 مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ بیماری کی تصدیق کے 3 سے 6 دن بعد وائرل آر این کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے جس کے بعد بتدریج کمی آتی ہے۔
اسی طرح کا رجحان ان افراد کے نمونوں میں بھی دیکھنے میں آیا جن کو بیماری کا سامنا کرتے ہوئے 10 دن سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا۔
تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ ویکسینیشن کے بعد اومیکرون سے متاثر افراد میں علامات ظاہر ہونے یا تشخیص کے 10 دن بعد بیماری کو آگے پھیلانے کا امکان نہیں ہوتا۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل بی ایم جے میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل جاپان میں ہی ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سابقہ اقسام کے مقابلے میں اومیکرون پلاسٹک اور جلد پر زیادہ دیر تک بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اس تحقیق میں لیبارٹری ٹیسٹوں میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون قسم پلاسٹک کی سطح اور انسانی جلد پر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ وقت تک زندہ رہ سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کی سطح پر کورونا وائرس کی اصل قسم ایلفا، گیما اور ڈیلٹا کے زندہ رہنے کا اوسط وقت بالترتیب 56 گھنٹے، 191.3 گھنٹے، 156.6 گھنٹے، 59.3 گھنٹے اور 114 گھنٹے ہے۔