کورونا وائرس کے ایک غیر معمولی اثر کی ممکنہ وضاحت سامنے آگئی
نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے بارے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں اور معلوم ہورہا ہے کہ یہ جسم میں کس طرح تباہی مچاتا ہے۔
کئی ماہ سے دنیا بھر میں طبی ماہرین کے لیے اس وائرس کا ایک اور پہلو معمہ بنا ہوا ہے جسے سائیلنٹ یا ہیپی ہائپوکسیا کا نام دیا گیا۔
اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ ہائپوکسیا میں جسمانی بافتوں یا خون میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے مگر کووڈ 19 کے مریضوں میں جو اس کا اثر دیکھنے میں آرہا ہے ایسا پہلے کبھی دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا۔
کووڈ 19 کے کچھ مریضوں میں خون میں آکسیجن کی سطح انتہائی حد تک گر جاتی ہے مگر پھر بھی وہ ڈاکٹروں سے بات کررہے ہوتے ہیں، اپنے فونز پر اسکرولنگ کرتے ہیں اور خود کو ٹھیک ہی محسوس کرتے ہیں۔
مگر یہ کمی اکثر اتنی کم ہوجاتی ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے مگر حیران کن طور پر کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جو عام طور پر خون میں آکسیجن کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جیسے سانس لینے میں مشکل یا سانس پھول جانا۔
اب اسپین کے محققین نے اس معمے کے بارے میں کچھ باتوں کا انکشاف کیا ہے۔
سیویلی انسٹیٹوٹ آف بائیو میڈیسن اور دیگر اداروں کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے کیسز میں سائیلنٹ ہائپوکسیا جسم کے اس حصے کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا اثر ہوسکتا ہے۔
طبی جریدے جرنل فنکشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں بیماری کی ابتدا میں جسم کی خون میں آکسیجن کو شناخت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور جس کے باعث وہ شریانوں میں آکسیجن کی کمی کو محسوس نہیں کرپاتا۔
اگر یہ خیال درست ثابت ہوا تو اس حوالے سے حکمت عملی وضع کی جاسکے گی تاکہ مریضوں کو اس مسئلے کا سامنا نہ ہو۔