علم کی 'آن لائن' شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب!

عام طور پر طالب علموں کے لیے سال کا یہ حصہ نئی کتابوں کی خوشبو، نئی کلاس، نئے ساتھی، نئے اساتذہ سے متعلق ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو نئے انداز سے دیکھنے اور تصور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
جہاں دنیا کے ہر شعبے میں حسبِ ضرورت کئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں تعلیمی شعبے میں بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس بدلاؤ میں آن لائن کلاس سرِفہرست ہیں۔
یوں تو آن لائن کلاسوں کا رواج پوری دنیا میں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن پاکستان کے طلبہ کے لیے درس و تدریس کا یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس کے لیے نہ ہمارے اساتذہ تیار تھے اور نہ ہی طالب علم، بلکہ ہمارا تو انفرااسٹرکچر بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس جدید طریقہءِ تعلیم کو قبول کرسکیں، نہ ہی ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور نہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہر گھر میں موجود ہے۔
لیکن شہری علاقوں میں تو پھر کسی حد تک اس نئے تعلیمی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ جہاں 3 جی اور 4 جی کی سہولت بھی بمشکل میسّر ہے۔ تو کیا وہاں رہنے والے ایک بار پھر پیچھے رہ جائیں؟ اس بارے میں کسی نے کچھ سوچا یا وہ ہمیشہ کی طرح نظر انداز ہوگئے؟
آن لائن کلاسوں کے لیے ایک اچھا کمپیوٹر، کیمرا، ہیڈ فون، مائیک اور سب سے ضروری تیز انٹرنیٹ کنیکشن درکار ہوتا ہے، اب تیز انٹرنیٹ اور مذکورہ آلات ہر گھر میں موجود نہیں ہیں اور موجود ہیں بھی تو تعداد میں ایک ایک ہیں۔ بالفرض ایک گھر میں ایک سے زیادہ بچوں کی آن لائن کلاسیں ہوں تو ہر ایک بچے کے لیے یہ سارے آلات خریدنا ضروری ہیں لیکن موجودہ حالات میں جہاں ایک متوسط گھرانے کے لیے ان آلات کو خریدنے کے لیے وسائل دستیاب نہیں ہیں، تو اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ معاشی طور پر پسماندہ طالب علم اس نئے آن لائن طریقے کے باعث تعلیم سے مزید دُور ہوجائیں گے۔
ہمارے اساتذہ بھی مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں جانتے۔ عرصہ دراز سے روایتی نظامِ تعلیم سے منسلک ہونے کی وجہ سے اب ان کے لیے اپنے کورس کو ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور کیمرے کے سامنے تعلیم دینا ایک مشکل مرحلہ ہے جسے سیکھنے کی سخت ضرورت ہے۔
اب اس کام کے لیے وقت اور پیسہ دونوں درکار ہیں۔ اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ بھی اپنے اساتذہ کو کوئی خاطر خواہ سہولت فراہم نہیں کر رہی اور اساتذہ اپنی تنخواہوں کے حصول کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اسکول انتظامیہ اساتذہ سے توقع کرتی ہے کہ وہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن بنائیں، ویڈیو لیکچر ریکارڈ کریں اور مختلف ایپس کے ذریعے آن لائن کلاسیں لیں مگر وہ اس بارے میں کوئی واضح ہدایت پیش نہیں کرتے ہیں کہ یہ کیسے ہونا چاہیے۔
ایک 60 سالہ استاد جو تکنیکی اعتبار سے زیادہ معلومات نہیں رکھتا، ان سے اس کام کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ نتیجتاً ان کی ملازمت خطرے میں پڑجاتی ہے اور جو اساتذہ آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں ان کا پورا دن ان کلاسوں میں ہی گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
اس حوالے سے ایک اور بُری خبر یہ ہے کہ اس تمام تر محنت اور اپنی نوکری بچانے کی کوشش کے باوجود کئی اسکول ایسے ہیں جو ان اساتذہ کو وقت پر تنخواہ نہیں دے رہے، حالانکہ والدین سے فیس لینے کے معاملے میں ان اسکولوں نے ذرا بھی رعایت نہیں دی۔
لیکن حالات جس طرف جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ والدین اور اساتذہ کے لیے یہ آزمائش بہت جلد ختم ہونے والی نہیں۔ اس لیے آن لائن کلاسوں کے لیے ہمیں بچوں کو مکمل طور پر کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ضرورت ہے جو شاید ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے بہتر ثابت نہ ہو۔
حال ہی میں یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بچوں میں انٹرنیٹ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لاکھوں بچوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بظاہر آن لائن کلاسوں میں بچوں کے سیکھنے سے متعلق نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ وہ اپنے کورس میں حقیقی طور پر مشغول ہونے اور سیکھنے کے بجائے پاسنگ گریڈ کا کریڈٹ حاصل کرنے کے لیے ایک طرح سے وقت گزاری کر رہے ہیں۔ اساتذہ کے لیکچر کے دوران اپنے دماغ میں آنے والے سوالات کو وہ ہاتھ کھڑا کرکے پوچھ نہیں سکتے جس سے انہیں کورس کو سمجھنے میں بھی انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔