کیا کورونا وائرس دیگر عالمی وباؤں سے زیادہ خطرناک ہے؟


اب جبکہ کورونا وائرس ہم پر تکالیف، بے آرامی اور موت کے پہاڑ توڑے جا رہا ہے تو ایسے میں گزرے وقتوں اور ماضی کی وباؤں پر غور و فکر کرنا ہرگز ایک غلط فیصلہ نہیں ہوگا۔
دیگر الفاظ میں کہا جائے تو دنیا گزشتہ صدیوں میں اس سے بھی بدترین عالمی وباؤں کا سامنا کرچکی ہے۔ ان میں سے چند نے تو تہذیبوں تک کو تباہ کردیا اور شہروں، قبیلوں اور قوموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
جس طرح کورونا وائرس سماجی سرحدوں سے ناآشنا ہے ٹھیک ویسے ہی قدیم وبائیں بھی جسمانی و سیاسی سرحدوں کو آسانی سے عبور کرتی چلی گئیں۔ پھر آج ہی کی طرح عالمگیریت نے ایسی وباؤں کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کیا۔
تیسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت میں ایک ڈراؤنا طاعون کچھ اس طرح پھیلا جیسے مکھن میں گرم چھری چلتی ہے۔ اس زمانے کے قصے کہانیوں کے مطابق ایبولا جیسا طاعون آنتوں کو پگھلا دیتا تھا اور متاثرہ شخص کی آنکھوں سے خون بہنے لگتا اور پیر گلنا سڑنا شروع ہوجاتے تھے۔ اس ہولناک موت کے رقص نے رومی سلطنت کی اس قدر کمر توڑ دی کہ یہ انتشار اور انارکی کا شکار ہوگئی۔
اسکندریہ میں ان پر قسطنطنیہ کے درآمد کردہ اناج کو لاد دیا گیا تھا۔ پھر اس مال کو پورے یورپ میں بیچا گیا جہاں یہ جراثیم طاعون کی عالمی وباؤں کا باعث بنا جس کے سبب سیکڑوں ہزاروں لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ گلی کوچوں میں لاشیں سڑنے گلنے لگیں اور اشرافیہ ہو یا کسان طبقہ دونوں ہی موت کا شکار بن رہے تھے۔
چھٹی اور ساتویں صدی میں بازنطینہ میں پھیلنے والے جسٹینین طاعون کے باعث دسیوں لاکھ افراد سنگین حالات اور تکالیف سے گزرے۔ تاریخ دان سمجھتے ہیں کہ اس دور میں مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کے باعث طاقت کا توازن اس وقت شمالی یورپ کی طرف جھکا جب بالکن اور یونان میں سلاوی حملوں، اٹلی میں لومبارڈی یلغاروں اور بازنطینہ قبضوں نے اس وقت کے عالمی نظام کو کمزور کردیا تھا۔
خطہ عرب میں عمواس طاعون کی وجہ سے 25 ہزار مسلمان سپاہی مارے گئے تھے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی تکالیف کو اخلاقی پستی سے جوڑا گیا۔ مذہبی رہنماؤں کے مطابق یہ وبا اس لیے یہاں پھوٹی تھی کیونکہ لوگ شراب پیا کرتے تھے۔ اس وبائی پھوٹ سے پہلے بھی انسانی ساختہ اور قدرتی آفات کا ذمہ دار اسی طرح کی انسانی ناکامیوں کو ہی ٹھہرایا جاتا رہا۔ آج بھی ہمارے مذہبی رہنما ہمارے ساتھ پیش آنے والے تمام بُرے واقعات کو مقدس قوانین سے بھٹکنے کا ثمر بتاتے ہیں۔