پاکستانی صحافیوں کو ذہنی مسائل سے چھٹکارہ کون دلائے گا؟


بی بی سی افریقہ کے ایڈیٹر فرگل کین نے اپنے عہدے سے استعفے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ شدید ذہنی صدمے (Post-Traumatic Stress Disorder - PTSD) کا شکار ہیں اور اس مسئلے کو دُور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب سے شاید وہ مصیبت زدہ علاقوں، تباہ کاریوں، جنگوں اور بدامنی کی صورتحال کو کور نہیں کرپائیں گے۔
یہ آئرش باشندے برطانوی نیوز ٹی وی پر سب سے زیادہ جانے پہنچانے اور محترم افراد میں سے ایک مانے جاتے ہیں، جنہوں نے قریب 3 دہائیوں تک روانڈا میں ہونے والی نسل کشی، عراقی جنگ، شامی اور افغان خانہ جنگی اور کانگو میں ایبولا وائرس کے نقصانات کی رپورٹنگ کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں انتہائی خطرناک حالات سے نبردآزما علاقوں کا رخ کیا۔
بین الاقوامی صحافیوں کی جو قیمتی ترین قسم ہے، فرگل ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے چند ساتھی جنہیں ہم ازراہِ تفنن بے خبر پیرا شوٹس پکارتے ہیں، وہ حساس حالات میں کود تو جاتے ہیں لیکن معاملات کی باریکیوں کو گہرائی سے سمجھے بغیر ٹی وی پر ’مستند‘ معلوماتی ذریعہ بن کر حالات پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔
تاہم فرگل اس قسم کے صحافیوں کی درجہ بندی میں قطعاً شمار نہیں کیے جاسکتے۔ لندن میں خبروں کے بھوکے درجنوں ایڈیٹر حضرات کے مطالبوں کی زد میں آنے سے پہلے ہی وہ کسی بھی خبر کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور رپورٹنگ سے قبل معاملے کی شدت محسوس کرنا چاہتے تھے۔
ساتھ ہی ساتھ وہ ہمیشہ پہلے خود پورے معاملے کو سمجھتے ہیں اور پھر بہتر انداز میں سمجھانے کے قابل ہوتے ہیں، جو یقینی طور پر خبر جاننے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ زیادہ تر ’اسٹار‘ رپورٹر یا پریزنٹر غرور و تکبر کا شکار بن جاتے ہیں جو ان کے لیے مفید ثابت ہونے کے بجائے اکثر اوقات ان کے سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے، تاہم لوگوں کو قائل کرنے کے فن سے متعلق خداداد صلاحیت اور اعتماد کی بدولت وہ اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
فرگل کی بات الگ تھی۔ ان کی شخصیت میں غرور و تکبر کا کہیں کوئی آثار نہیں آیا بلکہ وہ کسی بچے کی طرح ہر وقت سیکھنے کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ جب میں بی سی سی سے منسلک تھا ان دنوں لندن میں ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوپائی بلکہ میری ان سے پہلی ملاقات دبئی ایئرپورٹ میں اماراتی ایئر لائن کے لاؤنج میں ہوئی تھی۔ وہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے آئے تھے اور میں گیٹ وک ایئرپورٹ سے وہاں آیا تھا۔
ہم دونوں کے علاوہ وہاں اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ خوبیوں کے مالک فرگل کے پروڈیوسر پینی رچرڈز بھی موجود تھے جو آگے چل کر میرے محبوب دوست بنے اور جنوبی ایشیا کے بیورو چیف بھی۔ ہم تینوں اسلام آباد جانے والی پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ملاقات 9/11 کے بعد ہوئی تھی اور ایک دن پہلے ہی امریکا نے افغانستان پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔
نیند میں ڈوبے ہوئے فرگل اچانک اٹھ کر بیٹھ گئے۔ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں ہر قسم کی معلومات، رائے، خیالات اور تجزیے یعنی اس موضوع سے منسلک میرے ذہن میں جو بھی باتیں تھیں اسے انہوں نے اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں پورے دھیان سے ان سارے رابطوں کو درج کرلیا جو میں انہیں دے سکتا تھا۔ ہم نے بعدازاں دورانِ پرواز بھی کافی باتیں کیں۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے کیونکہ فرگل اور پینی کو کوئٹہ کی پرواز پکڑنی تھی جبکہ مجھے اسلام آباد میں ہی اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے تھے۔ فرگل بی بی سی کے وہ پہلے ایسے رپورٹر تھے جس نے افغانستان کے اندر کی تصوریں پوری دنیا کو دکھائی تھیں۔
عباس ناصر ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس abbas.nasir@hotmail.com ہے۔
انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: abbasnasir59@