’جیل میں بند ہوجانے سے قیدی انسانی کنبے سے الگ نہیں ہوجاتا‘


میاں نواز شریف کو باہر علاج کروانے کی اجازت دے کر عمران خان نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن پھر فیصلے کو ٹالنے کے لیے ای سی ایل سے نام نکلوانے کے معاملے پر لاحاصل لڑائی کے بعد بلاجواز و غیر حقیقی مچلکوں کی طلبی سمیت جن طریقوں کو بھی اپنایا گیا وہ ایک ذمہ دار حکومت کو زیب نہیں دیتا۔
ملک سے باہر علاج کروانے کے معاملے پر آخری فیصلہ چاہے جو بھی ہو مگر حکومت کو اس معاملے سے جڑے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
ایک طرف جب یہاں سابق وزیرِاعظم کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کے معاملے پر غیر سنجیدہ تنازع برپا ہے، تو دوسری طرف اقوام متحدہ کے پینل نے سابق صدر محمد مرسی کی جیل میں ہلاکت کا ذمہ دار مصری حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ پینل کے مطابق سابق صدر کو بدترین حالات میں قید رکھا گیا جبکہ ان کی تشویشناک بیماری پر زیادہ توجہ بھی نہیں دی گئی تھی۔ اسلام آباد اگر چاہے تو قائرہ جیسی شرمندگی اٹھانے سے خود کو بچا سکتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ حکومت کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ وہ سیاستدان جو جیل میں دنیا سے کوچ کرتا ہے وہ ایک عظیم تر رہنما بن جاتا ہے اور اپنی سیاسی جماعت کو انتخابات میں کم از کم ایک بار تو ضرور کامیابی دلواتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے لیے اس سے بڑھ کر سبق اور کیا ہوسکتا ہے؟
ان اصولوں کو 1957ء میں اپنایا گیا تھا اور آخری بار ان اصولوں کے اندر 2015ء میں ترمیم کی گئی تھی اور آج ان اصولوں کو عظیم عالمی رہنما نیلسن منڈیلا کی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور 24 برسوں تک لمبی بلاجواز قید کے اعتراف کے طور پر ’منڈیلا رولز‘ پکارا جاتا ہے۔
24 تا 35 تک موجود اصولوں میں جیل حکام کو تمام قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی بشمول اسپیشلسٹس سے علاج کروانے کے لیے کلنکس اور ہسپتال منتقلی سے متعلق ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ گیا ہے۔
اصول 24 کے مطابق، ’قیدیوں کو طبی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قیدی بھی دیگر شہریوں کی طرح طبی سہولیات سے مستفیض ہوسکتے ہیں پھر چاہے وہ کسی بھی قانون کے تحت جیل میں بند ہوں۔ انہیں ضروری طبی سہولیات تک مفت میں رسائی دی جانی چاہیے‘۔ جس طرح ایک امیر شہری اپنے خرچے پر علاج کے لیے بیرونِ ملک جاتا ہے اسی طرح ایک امیر قیدی بھی ایسا کرسکتا ہے۔
دیگر ہائی پروفائل قیدیوں بالخصوص نیب متاثرین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔
علم و فراست رکھنے والے شہری یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو جن سہولیات کی پیش کش کی جاتی ہے کیا ان کا دائرہ عام اور غریب قیدیوں تک بڑھایا جاسکتا ہے یا نہیں؟
یہ سوال اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نواز شریف کو ضمانت پر رہائی دیتے وقت اٹھایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملک کی جیلوں میں موجود بیمار قیدیوں کے بارے میں بھی رپورٹس طلب کی تھیں۔ اس معاملے کو قطعی طور پر سرد خانے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ گزشتہ حکومتوں نے جیل سے متعلق اقوام متحدہ کے 1957ء کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جیل قوانین میں ترامیم کیں اور ان میں قیدیوں کے طبی حقوق سے متعلق متعدد اصولوں کو بھی شامل کیا گیا۔ مثال کے طور پر 18ویں اصول کے مطابق قیدی کا جیل میں آتے ہی طبی معائنہ کرنا لازمی ہے اور 19ویں اور 20ویں اصول کے تحت قیدی کے وہ زخم جو ریکارڈ میں موجود نہیں ہیں انہیں ریکارڈ میں شامل کرنا اور سیشن جج کو زخموں کی تفصیلات سے آگاہ کرنا لازمی ہے۔