اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس، حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ ساتویں روز میں داخل ہوگیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کی زیر صدارت اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی تجاویز زیر غور ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'آئندہ چند روز میں اقدامات کیے جائیں گے جن کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا'۔
انہوں نے کہا کہ 'آزادی مارچ 2 روز بعد ایک نیا موڑ اختیار کرے گا'۔
انہوں نے بتایا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن نے چوہدری پرویز الہی سے کہا ہے کہ جو فیصلہ ہو گا رہبر کمیٹی کے ممبران کے ذریعے ہی ہو گا'۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق، امیر مقام، جمعیت علمائے پاکستان کے اویس نورانی، جمعیت اہل حدیث کے شفیق پسروری، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کے سینیٹر طاہر بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے شرکت کی۔
چوہدری پرویز الہیٰ کی مسلسل چوتھے روز مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ 'جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا کوشش جاری رہے گی'۔
حکومت اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان مذاکرات
آزادی مارچ
مزید پڑھیں: 'ہمیں اشتعال دلایا تو 24 گھنٹے میں شکست ہوجائے گی'
ابتدائی طور پر کمیٹی کے رکن اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو اس ملاقات کی اجازت دی تھی۔
تاہم 20 اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پارٹی کے وفد کو صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ اب اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کرے گی۔
علاوہ ازیں 21 اکتوبر کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے، جس کے بعد حکومت نے جے یو آئی (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
آزادی مارچ کی اسلام آباد آمد
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں آزادی مارچ کا آغاز 27 مارچ کو کراچی سے ہوا تھا جو سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر گوجر خان پہنچا تھا اور 31 اکتوبر کی شب راولپنڈی سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔
تاہم آزادی مارچ کے سلسلے میں ہونے والے جلسے کا باضابطہ آغاز یکم نومبر سے ہوا تھا، جس میں مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے 2 دن کی مہلت دی تھی۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان پر حکومت کرنے کا حق عوام کا ہے کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب میں کہا تھا کہ 'عمران خان کا دماغ خالی ہے، بھیجہ نہیں ہے اور یہ جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں، جادو ٹونے اور پھونکیں مار کر تعیناتیاں ہورہی ہیں'۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ 'مجھے خطرہ یہ ہے کہ یہ جو جادو ٹونے سے تبدیلی لانا چاہتے تھے وہ پاکستان کی سب سے بڑی بربادی بن گئی ہے، میں نے 72 برس میں پاکستان کی اتنی بدتر صورتحال نہیں دیکھی'۔
پاکستان پپپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن اور متحد اپوزیشن کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہر جمہوری قدم میں ہم ساتھ ہوں گے اور ہم اس کٹھ پتلی، سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجیں گے'۔
علاوہ ازیں گزشتہ روز مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ایک سال میں تین بجٹ پیش کرکے بھی محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام اس حکومت کو اب ایک دن کی بھی مہلت نہیں دے سکتے۔
انہوں نے 12ربیع الاول کو آزادی مارچ کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
آزادی مارچ کا پس منظر
واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں 'جعلی حکومت' کو گھر بھیجنا ہے۔
ابتدائی طور پر اس احتجاج، جسے 'آزادی مارچ' کا نام دیا گیا تھا، اس کی تاریخ 27 اکتوبر رکھی گئی تھی لیکن بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔
مذکورہ احتجاج کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔
18 اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا تاہم 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔
حکومت نے اسی روز اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔
پی پی پی کی جانب سے تحفظات اور ناراضی کا اظہار کیے جانے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے متحرک ہوگئے تھے اور حکومتی کمیٹی سے مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔
بعدازاں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔