ارب پتی امریکی جیفری اپسٹن کے خلاف سیکس اسکینڈل کیس ختم
رواں ماہ 10 اگست کو امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں موجود جیل میں خودکشی کرنے والے ارب پتی امریکی شخص جیفری اپسٹن کے خلاف عدالت نے سیکس اسکینڈل ختم کردیا۔
جیفری اپسٹن کو رواں برس جولائی کے آغاز میں درجنوں خواتین کے ’ریپ‘ انہیں بلیک میل کرنے اور انہیں جنسی غلام بنائے رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
69 سالہ جیفری اپسٹن کے خلاف سیکس اسکینڈل کے تحت نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں کیس زیر سماعت تھا کہ انہوں نے جیل میں خودکشی کرلی تھی۔
ممکنہ طور پر اگر ان کے خلاف الزامات ثابت ہوجاتے تو انہیں کم سے کم 15 سے 25 برس قید اور جرمانہ ہوسکتا تھا، تاہم انہوں نے سنگین الزامات کے بعد خودکشی کرلی تھی۔
ان کے اسکینڈل کیس میں ملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا نام بھی سامنے آیا تھا۔
سیکس اسکینڈل میں برطانوی شہزادے کا نام آنے پر تہلکہ مچ گیا تھا اور برطانیہ کے شاہی محل کو اس حوالے سے وضاحت کرنی پڑی تھی۔
شہزادہ اینڈریو پر الزام تھا کہ انہوں نے 1998 سے 2005 کے درمیان جیفری اپسٹن کی جانب سے فراہم کی گئی کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کیے۔
شہزادہ اینڈریو نے چند دن قبل ہی ان الزامات کو مسترد کیا تھا، تاہم اعتراف کیا تھا کہ وہ جیفری اپسٹن کو جانتے تھے۔
اسی کیس میں برطانیہ کی سپر ماڈل ناؤمی کامپبیل کا نام بھی سامنے آیا تھا اور خبریں تھیں کہ انہوں نے بھی جیفری اپسٹن کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کیے تھے۔
تاہم ناؤمی کامپیل نے بھی ان الزامات کو مسترد کردیا تھا اور اپنے وضاحتی بیان میں اس بات پر شکر ادا کیا تھا کہ جنسی غلام بننے سے بچ گئیں۔