افسانہ: ’ابّا تُو نے گھاٹے کا سودا کیا‘

’مجھے بچالو، مجھے بچالو، اس سے پہلے کہ میری سانسیں رُک جائیں اور میں مرجاؤں، مجھے ہسپتال لے جاو‘۔ آدھی رات کو اس کے سینے میں درد کی لہر اٹھی تو وہ چلّانے لگا۔ اس کے بچے اپنے اپنے کمروں سے دوڑتے ہوئے اس کے پاس آگئے۔
’کیا ہوا ابّا؟‘ اس کے بڑے بیٹے نے پوچھا۔
’ہسپتال لے چلو مجھے‘، اس نے مشکل سے جملہ مکمل کیا تھا۔
پھر اس کے بچے اسے سرکاری ہسپتال لے آئے جہاں ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں کی فوری طبی امداد کے بعد اس کا درد کچھ تھم سا گیا تھا۔ جیسے آگ پر پانی پھینک دینے سے ہلکا ہلکا دھواں دیرتک نکلتا رہتا ہے، اس کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ وہ اب آکسیجن ماسک لگائے، بیڈ پر سیدھا لیٹا، چھت کو گُھورے جارہا تھا۔
’ڈاکٹر صاحب مجھے بچا لیجیے، آپریشن کے بغیر ہی کچھ علاج کردیجیے ورنہ میں اس درد سے مرجاؤں گا‘، اس نے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے ہی وہاں موجود ڈاکٹر سے یہ کہا تھا۔ ڈاکٹر نے اس ہڈیوں کے ڈھانچے، شکل و صورت سے خستہ حال بوڑھے کی جانب یوں دیکھا تھا جیسے وہ پوچھنا چاہ رہے ہوں کہ ’اس خستہ حالی میں تم آخر جی کر کرنا کیا چاہتے ہو؟‘
اس نے ڈاکٹر کی نظروں میں موجود سوال کو پڑھ لیا تھا، ایسا ہی سوال بہت سال پہلے اس نے خود سے بھی کیا تھا جب اس کا سب سے چھوٹا بیٹا وسیم غائب ہوگیا تھا اور جس کی یادیں اب سالوں بعد اسے بے چین کیے رکھتی تھیں۔
وسیم جب اغوا ہوا تو اس کی عمر 10 سال تھی اور وہ پانچویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھا۔ ایک دن وہ اسکول گیا اور پھر اگلے 3 روز تک نہ ملا۔ مسجدوں میں اعلان ہوا، اخبار میں اشتہار دیا لیکن 3 روز تک اس کا کوئی سُراغ نہ ملا۔
ان 3 دنوں کے دوران اَن گنت افواہیں پھیل چکی تھیں۔ کچھ لوگ کہتے کہ انہوں نے وسیم کو ریلوے اسٹیشن کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا، کچھ نے اسے دوپہر کو نہر کنارے بیٹھے دیکھا تھا اور کچھ لوگوں نے اسے رشید کمہار کے گھر کے سامنے کھیلتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں اور ہر بات سُن کر سلیم الیکٹریشن مزید پریشان ہوجاتا اور اسے عجیب و غریب وہم گھیر لیتے۔ جیسے
’کہیں وسیم غلطی سے ٹرین میں تو نہیں بیٹھ گیا؟‘
’کہیں وہ نہر میں تو نہیں ڈوب گیا؟‘
یہ ساری باتیں اسے پریشان کیے رکھتیں اور وہ اب اس کے علاوہ کچھ اور سوچتا ہی نہیں۔ اگرچہ اسے اپنے تمام ہی بچوں سے محبت تھی، مگر چھوٹے وسیم سے تو کچھ خاص اُنسیت تھی۔ وسیم کو جنم دینے کے 2 سال بعد اس کی بیوی فوت ہوگئی تھی، لہٰذا سلیم نے اپنے اس بچے کو ماں بن کر بھی پالا تھا، اور یہ پیار یکطرفہ نہیں تھا بلکہ وسیم بھی اپنے باپ پر جان چھڑکتا تھا۔ سلیم الیکٹریشن کے پاس ایک سائیکل تھی جس پر وہ اپنے بیٹے وسیم کو بٹھا کر سارے گاؤں کی سیر کرواتا، جب کبھی دوسرے گاؤں میں میلہ لگتا تو وہ اسی سائیکل پر جاتے۔ سائیکل میلی ہوجاتی تو وسیم کہتا، ’ابّا دیکھیں ہماری سائیکل کس قدر میلی ہوگئی ہے، آج ہم اِس کی صفائی کریں گے۔‘
وہ پانی کی بوتل اور برش اٹھا کر لے آتا اور پھر باپ بیٹا مل کر سائیکل کو خوب رگڑ رگڑ کر صاف کرتے۔ جب صفائی ہوجاتی تو وہ ہمیشہ اپنے ابّا سے پوچھتا ’ابّا ایسی صاف سائیکل کیا گاؤں میں کسی اور کی ہوگی؟‘
اور سلیم جواب دیتا کہ ’نہیں نہیں ایسی چمکدار سائیکل بھلا کس کے پاس ہوسکتی ہے؟ اسے ہمارے شہزادے نے جو صاف کیا ہے۔‘
وسیم کو اپنے ابّا کی جرابیں، ٹوپی، رومال غرض ہر شے کا علم ہوتا کہ وہ کہاں رکھی ہیں۔ جب سلیم اپنی کوئی چیز ڈھونڈ رہا ہوتا تو وسیم کہیں سے بھی وہ چیز ڈھونڈ لاتا۔
’ابّا آپ کی جرابیں یہ چارپائی کے نیچے پڑی تھیں‘
’ابّا آپ کا رومال باورچی خانے میں رہ گیا تھا‘
سلیم الیکٹریشن کو اپنے اس بیٹے سے بے پناہ محبت تھی لیکن اب وہ گُم ہوگیا تھا۔
’کیا تاجی سے آپ کی کوئی خاص دشمنی تھی؟‘
’تاجی کو لاش پھینکتے ہوئے کیا آپ نے خود دیکھا تھا؟‘
’آپ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کیا اپیل کرنا چاہیں گے؟‘
’سلیم الیکٹریشن اب اور جی کر کیا کرنا ہے؟‘
بیٹی کے رشتے کے لیے لوگ آئے تو انہوں نے جہیز میں موٹر سائیکل کا مطالبہ کردیا تھا۔
جن لوگوں سے قرض لے رکھا تھا وہ دن رات واپسی کا مطالبہ کرنے لگے تھے۔
نوکری پر جانا اس کے لیے تقریباً ناممکن ہوچکا تھا۔
پھر ایک رات اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔
’کوکو کون ہے؟‘ اس کی آواز لرز گئی تھی۔
’میں ہوں سراج‘، دوسری طرف تاجی کا باپ تھا۔
’تم، تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے دروازے پر دستک دینے کی؟‘ اس نے دروازہ کھولا اور زور سے چلایا۔
’ابّا تُو نے گھاٹے کا سودا کیا‘
وسیم چلتا ہوا اس کے قریب آتا اور اس کے سامنے نوٹ لہرا کر کہتا۔
’ابّا ان نوٹوں کی خوشبو کیسی ہے؟‘
وہ گھبرا کر منہ دیوار کی جانب کر لیتا جہاں وسیم اپنی خون آلود شرٹ تھامے کھڑا ہوتا۔
’میرے بچے مجھے معاف کردو۔ یہ حالات کا فیصلہ تھا، اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔‘
’ابّا دوا وقت پر لیا کریں اور جلدی سوجایا کریں، یہ سب وہم ہے آپ کا۔‘ اس کے بیٹے نے کہا۔
’ڈاکٹر صاحب کیا فوت ہوئے لوگ بھی نظر آسکتے ہیں؟‘ اس نے آکسیجن ماسک ہٹا کر ڈاکٹر سے پوچھا۔
’چاچا جی خواب میں نظر آسکتے ہیں‘، ڈاکٹر نے کہا۔
’آپ نے کون سا فیصلہ گھاٹے کا کیا تھا؟‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔
سلیم الیکٹریشن کے سینے میں ایک بار پھر درد کی لہر اٹھی تو اس نے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
ڈاکٹر نے فوری طور پر ماسک اس کی ناک پر چڑھایا۔
پاکستان اور انڈیا کے بیشتر اردو اخبارات اور جرائد میں محمد جمیل اختر کے افسانے شائع ہوچکے ہیں، جس میں فنون، ادبیات، ایوان اردو دہلی، ادب لطیف، اردو ڈائجسٹ اور سہ ماہی تسطیر قابل ذکر ہیں۔ افسانوں کی پہلی کتاب ’ٹوٹی ہوئی سڑک‘ 2017 میں شائع ہوئی۔