ایک غلط بیان نے پاکستانی بینکوں کا اعتماد کیسے توڑ دیا؟

پاکستانی بینکس پہلے ہی اپنی سائبر سیکیورٹی کے مسائل کا شکار تھے کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم سیل کیپٹن (ر) محمد شعیب کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کردیا ہے۔
چنانچہ پاکستان میں بینکاری کی صنعت ان دنوں ایک طوفان میں گھری ہوئی ہے اور عوام کے بینکاری صنعت پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا بینکوں میں رکھی گئی ان کی رقوم محفوظ ہیں بھی یا نہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے نیوز چینلز پر آکر یہ دعوٰی کردیا کہ پاکستان کے تمام بینکوں کا ڈیٹا ہیک ہوگیا ہے اور صارفین کی معلومات چوری ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک اس نوعیت کے 100 سے زائد کیس ایف آئی اے میں رجسٹر ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ اس حوالے سے متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جس میں ایک بین الاقوامی گروپ بھی شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے ہیکرز کا ایک ایسا گروپ بھی گرفتار کیا ہے جو بھیس بدل کر لوگوں کو لوٹتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ چوری ہونے والی رقوم امریکا اور روس میں استعمال ہوئیں جبکہ ہزاروں بینک اکاونٹس کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد سے تحقیقات کررہے ہیں مگر ابھی تک کسی نے یہ انکشاف نہیں کیا کہ ڈیٹا چوری ہونے میں کوئی بینک ملوث ہے یا نہیں۔
دنیا بھر میں ترقی کے ساتھ لین دین کا طریقہ کار بھی تبدیل ہورہا ہے۔ اب آپ کو اپنے بینک سے بڑی رقوم نکلوانے کے بجائے گھر بیٹھے ہی رقوم منتقلی کی سہولت مل گئی ہے۔ جب آپ نے رقوم کی منتقلی کا جدید انداز اپنایا ہے تو لوٹنے کا بھی نیا انداز اپنایا جائے گا۔
گھر بیٹھے بینک صارفین کو لوٹنے کے 2 طریقے ہیں۔ ایک کو کہا جاتا ہے ’فشنگ‘ اور دوسرے کو کہا جاتا ہے ’ہیکنگ‘۔ ان دونوں طریقوں میں اہم اور بنیادی چیز ہے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ مگر دونوں طریقوں میں معلومات کے حصول کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسکمنگ بھی کی جاتی ہے۔
فشنگ
آپ کو یا آپ کے کسی قریبی رشتہ دار کو کسی حساس ادارے، اسٹیٹ بینک یا پھر بینک کا نمائندہ بن کر فون کال تو موصول ہوئی ہوگی جس میں مختلف طریقوں سے آپ سے بینک اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فون کرنے والا یہ معلوم کرتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ کس بینک میں ہے۔ اگر وہ بینک جس کی انٹرنیٹ فنڈ ٹرانسفر سروس موجود ہوتی ہے تو کال کرنے والا آپ کی معلومات کو حاصل کرنا شروع کرتا ہے۔ فون کال کرنے والا آپ سے بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کے بہانے آپ کا شناختی کارڈ نمبر، اے ٹی ایم پن نمبر، پاس ورڈ، تاریخِ پیدائش، والدہ کا نام اور دیگر معلومات طلب کی جاتی ہیں۔
بنیادی معلومات لینے کے بعد کال کرنے والا شخص فون کال یہ کہہ کر ہولڈ کرواتا ہے کہ معلومات چیک جارہی ہیں۔ جب یہ شخص آپ کی فراہم کردہ معلومات بینک کی ویب سائٹ پر ڈال کر آپ کے اکاؤنٹ سے رقم ٹرانسفر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس مرحلے پر بینک تصدیق کے لیے آپ کے موبائل پر ایک خفیہ کوڈ بھیجتا ہے جو صرف ایک ٹرانسفر کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔ اسے ون ٹائم پن یا او ٹی پی کہتے ہیں۔
اس کے بعد متعلقہ شخص آپ سے فون پر موصول ہونے والا او ٹی پی پوچھتا ہے اور اگر آپ نے یہ بھی فراہم کردیا تو چند سیکنڈ میں آپ لٹ جاتے ہیں۔
اسکمنگ
ہیکنگ
جس کے بعد بینک نے اپنے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز بند کردیں۔ بینک اسلامی کے بعد دیگر بینکوں نے بھی اپنے ڈیٹا اور صارفین کی رقوم کے تحفظ کے لیے انٹرنیٹ پر ملک سے باہر پاکستانی کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈز کے استعمال کو معطل کردیا ہے۔
ہیکنگ میں کوئی ماہر فرد یا ایک پورا گروہ بینکوں کے ڈیٹا سینٹرز پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کے سسٹم میں موجود کمزوریوں کی جانچ کے بعد ہیکرز صارفین کی معلومات یا بینک کے اکاؤنٹس میں موجود رقوم کو دیگر بینک اکاونٹس میں منتقل کردیتے ہیں۔ ہیکرز زیادہ تر ڈارک ویب کا سہارا لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تلاش کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے اور انہیں تلاش کرنے کے لیے بھی اسی قسم کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماضی میں بینکوں کو اپنی حفاظت کے لیے بندوق بردار سیکیورٹی عملہ اور تجوریاں رکھنی پڑتی تھی مگر اب سائبر سیکیورٹی کا عملہ بھی بھرتی کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ عملہ نہ صرف بینک کے ڈیٹا سینٹرز پر ہونے والے ہیکرز کے حملوں کو روکتا ہے بلکہ اپنے نظام کو چیک کرنے کے لیے از خود بھی اپنے سافٹ ویئر پر سائبر حملہ کرتا ہے اور سسٹم میں موجود خامیوں کو دُور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ایک سائبر ماہر کا کہنا ہے کہ ہر روز ان کے سسٹم پر چھوٹے بڑے سائبر حملے ہوتے رہتے ہیں اور یومیہ کی بنیادوں پر ان سے نمٹا جاتا ہے۔
راجہ کامران نیو ٹی وی سے وابستہ سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ آپ کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔