پاکستان

وزیر اعظم نے ترسیل زر کے فروغ کے لیے مراعات کی منظوری دے دی

بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت ان کی ہر طرح سے معاونت کرنے کے لیے تیار ہے، عمران خان
| Welcome

وزیر اعظم عمران خان نے تارکین وطن پاکستانیوں کی سہولت کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اس کے تحت کام کرنے والے دیگر بینکوں کو بزنس ٹو کسٹمر (بی ٹو سی) اور کسٹمر ٹو بزنس (سی ٹو بی) ٹزانزیکشنز کو فعال کرنے کی منظوری دے دی۔

بی ٹو سی ٹرانسیکشنز میں فری لانس انفارمیشن سسٹمز سروسز کو 1 ہزار 5 سو امریکی ڈالر فی فرد فی مہینہ بھیجنے کی اجازت دی گئی جبکہ کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کے علاوہ ٹرانزیکشنز کو بھی اتنی ہی رقم بھیجنے کی اجازت دی گئی۔

پینشن لینے والے افراد بھی ڈھائی لاکھ تک فی فرد فی مہینہ وصول کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: شرح نمو 5.8، افراط زر 3.8 فیصد رہی، اقتصادی جائزہ رپورٹ

سی ٹو بی ٹرانزیکشنز میں تارکین وطن پاکستانیوں کی جانب سے یوٹیلیٹی بلز، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تصدیق شدہ اداروں کے تعلیمی اخراجات، سپر اسٹورز، انشورنس کمپنیز، کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی وغیرہ کے لیے پیسے وصول کیے جاسکیں گے۔

معروف ریئل اسٹیٹ بلڈرز، ڈویلیپرز کو بھی جائیداد کی خریداری کے لیے رقم کی ترسیل کی اجازت دی جائے گی تاہم کسی کمپنی میں شیئرز خریدنے کے لیے اس کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے حکومت کی جانب سے موبائل والٹ کے استعمال میں ایئر ٹائم پر ادا کیے جانے والے ہر ایک امریکی ڈالر پر ایک روپے کو بڑھا کر 2 روپے کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: روپے کی قدر میں کمی سے متعلق حکومتی فیصلہ کتنا ٹھیک؟ کتنا غلط؟

وزیر اعظم نے تارکین وطن پاکستانیوں خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے سروے کی منظوری دی گئی تاکہ حکومت کے اس اقدام پر ان کا رد عمل لیا جاسکے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت ان کی ہر طرح سے معاونت کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے محکموں و وزارتوں کو قانونی طور پر رقوم کی ترسیل کو فروغ دینے کے لیے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو سہولیات دینے کے لیے مزید کام کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر خزانہ اسد عمر، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے تارکین وطن پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری، اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ سمیت دیگر سینیئر عہدیداروں نے شرکت کی۔