برطانوی گروہ کا ملالہ پر فتویٰ لگانے کا اعلان

اسلام آباد: برطانیہ میں مقیم اسلامی گروپ نے اسلام آباد میں ملاقات کا منصوبہ بنایا ہے جس میں طالبان کے ہاتھوں نشانہ بنائے جانے والی پندرہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو قابض امریکی افواج کی حمایت کے الزام میں فتویٰ لگائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پندرہ سالہ ملالہ کیخلاف اس اقدام سے شدید ردعمل آنے کا امکان ہے۔ اکتوبر میں طالبان کے ہاتھوں نشانہ بنائے جانے کے بعد سے ملالہ کو عالمی سطح پر کافی شہرت ملی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی رہنماؤں نے بھی لڑکیوں کی تعلیم کیلیے چلائی جانے والی مہم کی بھی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
شریعہ فار پاکستان کے سینئر رکن ابو بارہ نے کہا کہ ملالہ کی جانب سے اسلامی شعائر حجاب اور جہاد کا مذاق اڑانے اور خطے میں قابض امریکی افواج کی حمایت کے حوالے سے عوامی بیانات دینے پر ان کیخلاف فتویٰ جاری کیا جائے گا۔
مذکورہ گروپ کا شمار برطانیہ کی انتہا پسند اسلامی تنظیم میں ہوتا ہے اور اس نے اپنی ویب سائٹ پر ملالہ کے حوالے سے ایک بلاگ بھی شائع کیا تھا جس میں انہیں اسپتال میں بستر پر لیٹے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس کا عنوان کچھ اس طرح تھا "ملالہ یوسفزئی کے مگرمچھ کے آنسوؤں پر یقین نہ کریں"۔
برطانیہ میں ایک اہم بنیاد پرست عالم انجم چوہدری نے کہا کہ فتویٰ 30 نومبر کو اسلام آباد کی لال مسجد میں لگائے جانے کا امکان ہے جہاں سال 2007 میں آرمی نے چھاپہ مار کے طالبان زذہنیت کی طرز پر چلائے جانے والے کمپاؤنڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔
مسجد کے ڈپٹی ہیڈ مولانا عامر صدیقی نے کانفرنس میں برطانوی گروہ کی شرکت کے امکان کو رد کر دیا تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں عبادت گاہ میں جمع ہونے کیلیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی برطانوی اسپتال میں تیزی سے روبہ صحت ہیں۔
ابھی تک بارہ یا چوہدری میں سے کسی نے یہ بات نہیں بتائی کہ اگر گروہ نے ان پر فتویٰ لگایا تو ان کو کس قسم کی سزا دی جائے گی۔
چوہدری نے رائٹرز کو بتایا کہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہم تلوار نکال کر ملالہ کی تلاش میں نکل پڑیں گے بلکہ اصل مسئلہ برطانوی اور امریکی مفاد کو برقرار رکھنے کیلیے پاکستان اور امریکہ کے کردار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملالئ انہی مسائل میں سے ایک ہے جسے حل کیا جائیگا کیونکہ مسلمانوں کے دشمن اس لڑکی استعمال کرتے ہوئے پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ دیکھوں، مسلمان تعلیم پر یقین نہیں رکھتے اور یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
تبصرے (1) بند ہیں