پہلی سہ ماہی رپورٹ: مالی خسارہ گذشتہ 10 سال کی کم ترین سطح پر آگیا
اسلام آباد: پاکستان کے مالی سال 18-2017 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی خسارہ جی ڈی پی سے ایک فیصد کم رہا، جو گذشتہ 10 سال میں سب سے کم ترین سطح ہے، جبکہ اس دوران ٹیکس ریوینو کی غیر واضح صورت حال اور خاص طور پر امریکا کی جانب سے اخراجات کو تصور نہ کیے جانے جیسے مسائل کا سامنا رہا۔
ملک کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 18-2017 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی خسارہ 0.9 فیصد کم رہا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 1.3 فیصد تھا۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اجلاس میں ٹیکس بچانے والوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تاہم سالانہ معاشی اہداف کے حصول کے لیے بعض امور کو نظر انداز کیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی حالیہ پالیسی میں تبدیلی کے سبب پاکستان رواں برس کولیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کی مد میں ملنے والی 122 ارب روپے کی رقم سے محروم رہے گا۔
یہ پڑھیں : پاکستانی معیشت میں بہتری کے آثار
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت امریکی مالی امداد معطل کرنے پریشان نہیں لیکن اس کے نتیجے میں پڑنے والے خلا کو پر کرنا ہوگا۔
اجلاس میں دیگر معاشی مسائل کے علاوہ عوامی شعبے کے اداروں کے اکاؤنٹس کو حتمی شکل دینے پر بھی غور کیا گیا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو خاطر خواہ منافع ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ نیب کی جانب سے آمد سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق دائر ریفرنس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم مثبت سہ ماہی رپورٹ کے بعد ان کے عالمی مالیاتی اداروں کے اجلاس میں شرکت کا امکان ہے۔
سیکریٹری خزانہ شاہد محمود نے اجلاس کے شرکاء کو صوبوں کے مالی معاملات سے متعلق دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی سہ ماہی کے اختتام تک معاشی نمو بہتر رہی۔
شاہد محمود نے بتایا کہ رواں مالی سال جولائی تا ستمبر کے دوران 765 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ
محصولات میں اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زائد محصولات صوبوں کو منتقل کرنے کے ساتھ وصولیاں بھی مکمل کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس صوبوں کو محصولات کی صورت میں 416 ارب روپے دیئے گئے جس میں بقایاجات بھی شامل تھے تاہم رواں برس محصولات 570 ارب روپے رہے جبکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں محصولات کی وصولیاں بہتر ہونے کی وجہ سے سود کی ادائیگیاں بھی کم رہیں۔
اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ وفاق نے اخراجات کی مد میں سخت مالی نظم و ضبط اختیار کیا جس کے نتیجے میں مجموعی اخراجات میں 2.2 فیصد کمی ہوئی۔
مالی سال 17-2016 کی پہلی سہ ماہی میں کل اخراجات کا بجٹ 914 ارب روپے مختص تھا جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں 894 ارب روپے خرچ کئے۔
مزید پڑھیں : اسٹیٹ بینک کا مالی خسارے میں اضافے کا انتباہ
اجلاس سے قبل ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مالی خسارہ 324 ارب روپے رہا جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں 438 ارب روپے تھا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ اہداف اخراجات میں کمی اور محصولات کی بروقت وصولیوں کی وجہ سے حاصل ہوا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیا جس کی بدولت محصولات کی وصولیوں میں اضافہ ہوا اور مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالی اشاریے مثبت رہے۔
اسحٰق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاشی نمو میں مزید بہتری کے لیے اسی مالی پالیسی پر عمل پیرا رہیں جبکہ اداروں کو مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دیگر مالی سہ ماہی میں مزید اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے زور دیا کہ افراط زر کے ذخائر کی منتقلی، کم شرح سود، پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ، حالیہ برآمدات اور ترسیلات میں مزید بہتری کے لیے معاشی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی جائے تاکہ غربت اور بے روزگاری میں خاطرخواہ کمی واقع ہو سکے۔
تبصرے (1) بند ہیں