جوتوں کے اوپر جرابیں
اس بلاگ کا عنوان پڑھ کر حیران نا ہوں۔ براہِ مہربانی اپنے قیمتی وقت میں سے چند فارغ لمحات نکال کر اسے پڑھیں۔ عنوان کی وجہ آپ پر جلد ہی واضح ہوجائے گی.
ہوا کچھ یوں کہ سال کے آخری دن میرے کزن کی کال آئی کہ چونکہ کل بوجہ یکم جنوری بینکوں کی چھٹی ہے اور ساتھ ہی ہفتہ اور اتوار بھی ہے، اس لیے میرے کزن علی شیخ نے میرے ایک اور کزن سعادت اللہ کے ساتھ مل کر نتھیا گلی جانے کا پلان بنایا اور مجھے بھی اس پلان کا حصّہ بننے کا کہا گیا۔
ایسے موسمی حالات میں جبکہ لاہور میں پڑنے والی سردی نامعلوم وجوہات کی وجہ سے پہنچ نہیں پارہی، تو میں نے سوچا کہ کیوں نا سردی کا مزہ لینے کے لیے مری چلا جائے؟ لہٰذا میں نے اپنے مصروف ترین فارغ دفتری روٹین میں سے چھٹیاں لینے کا سوچا اور اگلے ہی دن اپنے دو کزنز کے ساتھ براستہ موٹر وے اسلام آباد چل پڑا۔
اسلام آباد میں ایک دن رکنے اور منال میں رات کامہنگا ترین بد مزہ کھانا کھانے کے بعد اگلی صبح ہم نتھیا گلی کے لیے روانہ ہوئے اور ڈونگہ گلی میں ایک ہوٹل پہنچے، جس کے بالکل سامنے مشکپوری ٹاپ پر جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک تھا۔




ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد ہم تینوں عارضی کنوارے (کیونکہ تینوں ہی شادی شدہ اور بچوں والے ہیں) جوان جذبے مگر کم تجربے کے ساتھ ہائیکنگ کرنے نکل پڑے۔
ویسے تو ہمیں برف صرف سڑکوں کے کناروں پر نظر آرہی تھی مگر ہائیکنگ ٹریک پوری طرح برف سے لدا پڑا تھا اور پھر ہم تینوں ہی جذباتی ہو کر ہائیکنگ کرنے نکل پڑے تھے۔
اپنی طرف سے ہم تینوں نے ہی بہترین ہائیکنگ جوتے دو دو جرابوں کے جوڑوں اور سردی کے دیگر حفاظتی انتظامات کے ساتھ پہنے، مگر بد قسمتی سے میرے امریکا سے لیے گئے مہنگے ترین جوتے پھسلتی برف پر مجھے پھسلانے لگے اور میری پھسلتی بے بسی کو دیکھتے ہوئے پاس سے گزرنے والے تجربہ کار ہائیکر نے مسکراتے ہوئےمشورہ دیا کہ بھائی، جوتوں کے اندر پہنی جرابیں اتارو اور جوتوں کے اوپر سے پہن لو۔
امریکی جوتوں پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرنے کی وجہ سے میں نے جرابیں بھی ایک ہی پہنی تھیں۔ جس کی وجہ سے میرے کزن علی کو اپنی برانڈڈ جرابوں کی قربانی دینا پڑی (اتنی آرام سے علی نے مجھے اپنی جرابیں دے دیں کہ ہمیں لگا کہ یقیناً اس نے یہ جرابیں لنڈا بازار سے خریدیں ہوں گی)۔ بہرحال جوتوں کے اوپر سے جرابیں پہن کر میرے امریکی جوتے پھسلنا بھول گئے اور یوں ہم خراماں خراماں سائیڈوں پر لگی ٹہنیوں کو پکڑتے پکڑتے آگے بڑھتے گئے۔




مشکپوری کا ہائیکنگ ٹریک شروع سے ہی انتہائی دشوار تھا اور اس کی وجہ ایک ہفتہ قبل پڑی برف تھی، جو کہ دھوپ نہ پڑنے کی وجہ سے ابھی تک جمی ہوئی تھی۔ تاہم آگے چل کر دھوپ پڑنے کی وجہ سے ٹریک مکمل طور پر صاف مگر پتھریلا تھا۔
یوں ہم تینوں جوانی کے آخری سالوں میں چار کلومیٹر کا سفر تین گھنٹوں میں کر کے مشکپوری ٹاپ پہنچے۔ جہاں سے نظارہ انتہائی خوبصورت اور دلکش تھا۔ وہاں پہنچ کر ہمیں اپنا طویل سفر کچھ دیر کے لیے بھول گیا اور ہم خدا کی تخلیق کردہ خوبصورتی کے گن گانے لگے۔
مشکپوری ٹاپ سے دور وادی کشمیر کو دیکھ کر کشمیر کی خوبصورتی کا اندازہ ہونے لگا اور ہم نے سوچا کہ کاش وہ دن بھی آئے جب ہم اسی طرح کشمیر جاکر نظرآنے والے پہاڑوں تک بھی ہائیکنگ کرکے جا سکیں، مگر۔۔۔۔
مشکپوری ٹاپ پر جاتے ہوئے ہمیں بہت سارے ایسے نوجوان بوڑھے ملے جو کہ آدھے راستے سے ہی واپس آرہے تھے اور ہمیں جذبہ بھائی چارگی میں متنبہ کر رہے تھے کہ آگے ٹریک کافی خطرناک ہے اس لیے آپ بھی واپس ہوں لیں۔ ایک بھائی نے تو یہ بھی کہا کہ واپس چلے جائیں کیونکہ اندھیرا ہونے والا ہے اور اگر آگے جانا ہی ہے تو اونچا نا بولیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کی آواز سن کر کوئی جانور نیچے آجائے۔




بہرحال کچھ دیر وہاں گزارنے کے بعد ہم واپسی کی طرف چل پڑے اور جوں جوں سورج چھپ رہا تھا، ہمارا ڈرپوک حوصلہ ہمیں پتھریلے ٹریک پر پھسلتی برف پر پاؤں تیز تیز رکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ہم ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ یہاں تو کسی حادثے کی صورت میں ایمبولینس بھی نہیں پہنچ سکتی۔
اپنے ڈر اور پھسلتی برف کا سارا غصہ ہم اپنے کزن سعادت پرنکال رہے تھے، جس کے ایماں پر ہم نیم جوان ٹریکنگ کرنے چل پڑے تھے۔ بارحال دو سے تین گھنٹوں کے بعد ہم ہوٹل پہنچے۔ جس کے بعد ہم اگلی صبح تک بستروں سے اٹھنے سے قاصر تھے۔
— تصاویر بشکریہ لکھاری۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.
تبصرے (4) بند ہیں