• KHI: Asr 5:03pm Maghrib 6:50pm
  • LHR: Asr 4:36pm Maghrib 6:24pm
  • ISB: Asr 4:42pm Maghrib 6:31pm
  • KHI: Asr 5:03pm Maghrib 6:50pm
  • LHR: Asr 4:36pm Maghrib 6:24pm
  • ISB: Asr 4:42pm Maghrib 6:31pm
شائع January 11, 2016 اپ ڈیٹ January 12, 2016

جوتوں کے اوپر جرابیں

نوید نسیم

اس بلاگ کا عنوان پڑھ کر حیران نا ہوں۔ براہِ مہربانی اپنے قیمتی وقت میں سے چند فارغ لمحات نکال کر اسے پڑھیں۔ عنوان کی وجہ آپ پر جلد ہی واضح ہوجائے گی.

ہوا کچھ یوں کہ سال کے آخری دن میرے کزن کی کال آئی کہ چونکہ کل بوجہ یکم جنوری بینکوں کی چھٹی ہے اور ساتھ ہی ہفتہ اور اتوار بھی ہے، اس لیے میرے کزن علی شیخ نے میرے ایک اور کزن سعادت اللہ کے ساتھ مل کر نتھیا گلی جانے کا پلان بنایا اور مجھے بھی اس پلان کا حصّہ بننے کا کہا گیا۔

ایسے موسمی حالات میں جبکہ لاہور میں پڑنے والی سردی نامعلوم وجوہات کی وجہ سے پہنچ نہیں پارہی، تو میں نے سوچا کہ کیوں نا سردی کا مزہ لینے کے لیے مری چلا جائے؟ لہٰذا میں نے اپنے مصروف ترین فارغ دفتری روٹین میں سے چھٹیاں لینے کا سوچا اور اگلے ہی دن اپنے دو کزنز کے ساتھ براستہ موٹر وے اسلام آباد چل پڑا۔

اسلام آباد میں ایک دن رکنے اور منال میں رات کامہنگا ترین بد مزہ کھانا کھانے کے بعد اگلی صبح ہم نتھیا گلی کے لیے روانہ ہوئے اور ڈونگہ گلی میں ایک ہوٹل پہنچے، جس کے بالکل سامنے مشکپوری ٹاپ پر جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک تھا۔

مشکپوری جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک.
مشکپوری جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک.
برف کی وجہ سے ٹریک پر چلنا بہت دشوار تھا.
برف کی وجہ سے ٹریک پر چلنا بہت دشوار تھا.
مشکپوری جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک.
مشکپوری جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک.
برف کی وجہ سے ٹریک پر چلنا بہت دشوار تھا.
برف کی وجہ سے ٹریک پر چلنا بہت دشوار تھا.

ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد ہم تینوں عارضی کنوارے (کیونکہ تینوں ہی شادی شدہ اور بچوں والے ہیں) جوان جذبے مگر کم تجربے کے ساتھ ہائیکنگ کرنے نکل پڑے۔

ویسے تو ہمیں برف صرف سڑکوں کے کناروں پر نظر آرہی تھی مگر ہائیکنگ ٹریک پوری طرح برف سے لدا پڑا تھا اور پھر ہم تینوں ہی جذباتی ہو کر ہائیکنگ کرنے نکل پڑے تھے۔

اپنی طرف سے ہم تینوں نے ہی بہترین ہائیکنگ جوتے دو دو جرابوں کے جوڑوں اور سردی کے دیگر حفاظتی انتظامات کے ساتھ پہنے، مگر بد قسمتی سے میرے امریکا سے لیے گئے مہنگے ترین جوتے پھسلتی برف پر مجھے پھسلانے لگے اور میری پھسلتی بے بسی کو دیکھتے ہوئے پاس سے گزرنے والے تجربہ کار ہائیکر نے مسکراتے ہوئےمشورہ دیا کہ بھائی، جوتوں کے اندر پہنی جرابیں اتارو اور جوتوں کے اوپر سے پہن لو۔

امریکی جوتوں پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرنے کی وجہ سے میں نے جرابیں بھی ایک ہی پہنی تھیں۔ جس کی وجہ سے میرے کزن علی کو اپنی برانڈڈ جرابوں کی قربانی دینا پڑی (اتنی آرام سے علی نے مجھے اپنی جرابیں دے دیں کہ ہمیں لگا کہ یقیناً اس نے یہ جرابیں لنڈا بازار سے خریدیں ہوں گی)۔ بہرحال جوتوں کے اوپر سے جرابیں پہن کر میرے امریکی جوتے پھسلنا بھول گئے اور یوں ہم خراماں خراماں سائیڈوں پر لگی ٹہنیوں کو پکڑتے پکڑتے آگے بڑھتے گئے۔

جوتوں پر جرابیں پہننے سے پھسلن تقریبآ ختم ہوگئی.
جوتوں پر جرابیں پہننے سے پھسلن تقریبآ ختم ہوگئی.
مشکپوری جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک.
مشکپوری جانے کے لیے ہائیکنگ ٹریک.
کچھ آگے چل کر دھوپ پڑنے کی وجہ سے ٹریک مکمل طور پر صاف مگر پتھریلا تھا۔
کچھ آگے چل کر دھوپ پڑنے کی وجہ سے ٹریک مکمل طور پر صاف مگر پتھریلا تھا۔
ہائیکنگ ٹریک برف سے لدا ہوا ہے.
ہائیکنگ ٹریک برف سے لدا ہوا ہے.

مشکپوری کا ہائیکنگ ٹریک شروع سے ہی انتہائی دشوار تھا اور اس کی وجہ ایک ہفتہ قبل پڑی برف تھی، جو کہ دھوپ نہ پڑنے کی وجہ سے ابھی تک جمی ہوئی تھی۔ تاہم آگے چل کر دھوپ پڑنے کی وجہ سے ٹریک مکمل طور پر صاف مگر پتھریلا تھا۔

یوں ہم تینوں جوانی کے آخری سالوں میں چار کلومیٹر کا سفر تین گھنٹوں میں کر کے مشکپوری ٹاپ پہنچے۔ جہاں سے نظارہ انتہائی خوبصورت اور دلکش تھا۔ وہاں پہنچ کر ہمیں اپنا طویل سفر کچھ دیر کے لیے بھول گیا اور ہم خدا کی تخلیق کردہ خوبصورتی کے گن گانے لگے۔

مشکپوری ٹاپ سے دور وادی کشمیر کو دیکھ کر کشمیر کی خوبصورتی کا اندازہ ہونے لگا اور ہم نے سوچا کہ کاش وہ دن بھی آئے جب ہم اسی طرح کشمیر جاکر نظرآنے والے پہاڑوں تک بھی ہائیکنگ کرکے جا سکیں، مگر۔۔۔۔

مشکپوری ٹاپ پر جاتے ہوئے ہمیں بہت سارے ایسے نوجوان بوڑھے ملے جو کہ آدھے راستے سے ہی واپس آرہے تھے اور ہمیں جذبہ بھائی چارگی میں متنبہ کر رہے تھے کہ آگے ٹریک کافی خطرناک ہے اس لیے آپ بھی واپس ہوں لیں۔ ایک بھائی نے تو یہ بھی کہا کہ واپس چلے جائیں کیونکہ اندھیرا ہونے والا ہے اور اگر آگے جانا ہی ہے تو اونچا نا بولیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کی آواز سن کر کوئی جانور نیچے آجائے۔

مشکپوری کا ہائیکنگ ٹریک شروع سے ہی انتہائی دشوار تھا.
مشکپوری کا ہائیکنگ ٹریک شروع سے ہی انتہائی دشوار تھا.
ٹاپ پر پہنچنے پر انتہائی خوبصورت نظارہ آپ کا استقبال کرتا ہے.
ٹاپ پر پہنچنے پر انتہائی خوبصورت نظارہ آپ کا استقبال کرتا ہے.
مشکپوری ٹاپ
مشکپوری ٹاپ

بہرحال کچھ دیر وہاں گزارنے کے بعد ہم واپسی کی طرف چل پڑے اور جوں جوں سورج چھپ رہا تھا، ہمارا ڈرپوک حوصلہ ہمیں پتھریلے ٹریک پر پھسلتی برف پر پاؤں تیز تیز رکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ہم ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ یہاں تو کسی حادثے کی صورت میں ایمبولینس بھی نہیں پہنچ سکتی۔

اپنے ڈر اور پھسلتی برف کا سارا غصہ ہم اپنے کزن سعادت پرنکال رہے تھے، جس کے ایماں پر ہم نیم جوان ٹریکنگ کرنے چل پڑے تھے۔ بارحال دو سے تین گھنٹوں کے بعد ہم ہوٹل پہنچے۔ جس کے بعد ہم اگلی صبح تک بستروں سے اٹھنے سے قاصر تھے۔

— تصاویر بشکریہ لکھاری۔


بلاگر کا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے ہے, مگر وہ اخراجِ جذبات، خیالات و تجزیات کے لیے بلاگ کا استعمال بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ ٹوئیٹر پر navidnasim@ کے نام سے لکھتے ہیں۔ nasim.naveed@gmail.com


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

نوید نسیم

بلاگرکا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے ہے، مگر وہ اخراجِ جذبات، خیالات و تجزیات کے لیے ذریعہ بلاگ کا استعمال بہتر سمجھتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں۔ : navid_nasim@

nasim.naveed@gmail.com

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبصرے (4) بند ہیں

پرویز خان سکھر Jan 11, 2016 03:59pm
نوید صاحب نے جس بہتر انداز سے ہماری جنت نظر وادی کا تزکرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ میں ان تمام لکھاریوں سے درخواست کرتا ہو کہ وہ جب بھی کیس سیاستی مقام پر جائے تو مشکپوری کا ہائیکنگ ٹریک جیسے تحریر ضرور لکھیں تاکہ ۤن لائن تحریر پڑ ھنے والے اس فائدہ حاصل کرسیں اور سیا حت کو فروغمل سکیے
dr.waliullah. Jan 11, 2016 05:26pm
bahut zabardast tariqay se bayan kia ha ....aur pictures aysya paste kiay han...k roodad ka tasalsul b nahi tooota
avarah Jan 12, 2016 12:19am
مجوتوں کے اوپر جرابیںtHİS İS THE WAY PEOPLE LİVE İN MURREE. ı ALSO USED THIS METHOD TO MOVE INSIDE MURREE WHEN I USED TO LOVE THERE LONG TIME BACK
محمد ارشد قریشی ( ارشی) Jan 12, 2016 10:22am
بہت خوبصورت تحریر اتنی عمدہ معلومات فراہم کرنے کا شکریہ