• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm
شائع October 29, 2015 اپ ڈیٹ October 31, 2015

سطحِ سمندر سے 9200 فٹ کی بلندی پر واقع ’’جوگیانو سر‘‘ (جوگیوں کی چوٹی یا Yougis' Peak) ہندو اور سکھ برادری کے لیے یکساں طور پر مقدس جگہ ہے۔ یہ چوٹی وہ مقدس مقام ہے جہاں رام چندر جی نے اپنی محبوب بیوی سیتا کے ساتھ بن باس لیا تھا۔ یہ جگہ رام تخت کے نام سے بھی مشہور ہے۔

لفظ ’’جوگیان‘‘ پشتو زبان میں جوگیوں کو کہتے ہیں اور ’’سر‘‘ کے معنی ’’چوٹی‘‘ کے ہیں۔ سوات کے ثقہ مؤرخ ڈاکٹر سلطان روم کی تحقیق کے مطابق کشمیر کے امر ناتھ غار کے بعد سوات کے ایلم پہاڑ میں قائم "جوگیانو سر، رام تخت" ہندوؤں کی دوسری بڑی مقدس جگہ ہے، جہاں کئی ہزار سال قبل رام چندر جی نے سیتا کے ساتھ بن باس لیا تھا۔ اگرچہ ہندوؤں کی مقدس کتابوں میں اس کا ذکر نہیں ملتا اور رامائن بھی اس حوالے سے خاموش ہے لیکن ہندو پھر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوہِ ایلم کے جوگیانو سر میں بن باس لیا گیا ہے۔

ایلم گاؤں میں کھیتوں کے درمیان بنے ایک گھر میں شام کا کھانا تیار ہونے کی غرض سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
ایلم گاؤں میں کھیتوں کے درمیان بنے ایک گھر میں شام کا کھانا تیار ہونے کی غرض سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
ایلم گاؤں سے جوگیانو سر کی لی گئی ایک تصویر۔
ایلم گاؤں سے جوگیانو سر کی لی گئی ایک تصویر۔
ایلم گاؤں سے رام تخت تک جانے والا کچا راستہ۔
ایلم گاؤں سے رام تخت تک جانے والا کچا راستہ۔
راستے میں مقامی لوگ یاتریوں یا سیاحوں کی تواضع گاڑھی چھاچھ سے ضرورکرتے ہیں۔
راستے میں مقامی لوگ یاتریوں یا سیاحوں کی تواضع گاڑھی چھاچھ سے ضرورکرتے ہیں۔

ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق رام چندر جی نے کوہِ ایلم کی چوٹی جوگیانو سر میں اپنی محبوب بیوی سیتا کے ساتھ چھ تا سات مہینے مراقبے میں گزارے ہیں، اس لیے اس واقعے کی یاد میں ہر سال منعقد ہونے والے میلے میں دور دراز کے علاقوں سے سکھ اور ہندو یاتری سوات بڑی تعداد میں آیا کرتے تھے۔

سوات کے مینگورہ گرودوارے کے ہیڈ گرنتھی اندرجیت کے مطابق سکھ اس میلے کو ’’بیساکھی‘‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ ڈاکٹر سلطان روم ہندوؤں کے حوالے سے اسے "ساون سنگران" کا نام دیتے ہیں۔ میلے کے موقع پر ہندو اور سکھ (مرد و عورت دونوں) کثیر تعداد میں جوگیانو سر دو تین دن پہلے حاضر ہوتے تھے۔ میلے کے لیے رام تخت کو رنگا رنگ کپڑوں اور جھنڈیوں سے سجایا جاتا تھا۔ تمام یاتریوں پر لازم ہوتا تھا کہ وہ غیر معمولی اخلاص کے ساتھ میلے میں شریک ہوں۔ ساون کی پہلی رات انہیں عبادت اور اپنی مقدس کتاب کو پڑھنے میں بتانی ہوتی تھی۔ علی الصباح تمام یاتریوں کو پنڈت کی رہنمائی میں رام تخت تک پہاڑ پر چڑھنا ہوتا تھا۔

ہیڈ گرنتھی اندرجیت کے مطابق ایلم کی چوٹی کو رام تخت کہتے ہیں، ’’یہ کوئی باقاعدہ طور پر تعمیر شدہ تخت نہیں تھا۔ بس چوٹی کے اوپر پڑے سب سے بڑے پتھر کو روز اول سے رام تخت کہتے ہیں۔‘‘

جوگیانو سر کے راستے میں ایک بچی مویشی چرا رہی ہے.
جوگیانو سر کے راستے میں ایک بچی مویشی چرا رہی ہے.
ٹریکرز جوگیانو سر جا رہے ہیں.
ٹریکرز جوگیانو سر جا رہے ہیں.
وہ کچے کوٹھے جہاں رات گزاری جاسکتی ہے۔
وہ کچے کوٹھے جہاں رات گزاری جاسکتی ہے۔
تصویر میں جنگل کی بے دریغ کٹائی دیکھی جاسکتی ہے۔
تصویر میں جنگل کی بے دریغ کٹائی دیکھی جاسکتی ہے۔
درخت کی جڑوں کو آگ لگائی گئی ہے، تاکہ اس کے کاٹنے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔
درخت کی جڑوں کو آگ لگائی گئی ہے، تاکہ اس کے کاٹنے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔
درخت پر کلہاڑے کی تازہ ضرب موجود ہے۔
درخت پر کلہاڑے کی تازہ ضرب موجود ہے۔

میلے کے دوران راہنما پنڈت کئی رسوم ادا کرنے کے بعد یاتریوں میں پرشاد بانٹتا تھا۔ اس عمل کے بعد تمام یاتری رام تخت کے گرد خدا کی رحمت کا حقدار ٹھہرنے کے لیے دائرے کی شکل میں کھڑے ہوتے تھے۔ یاتری اس موقع پر اپنی کلائی کے گرد مقدس تار یا بریسلٹ ٹائپ کی چیزیں باندھتے تھے۔ تبرک کے طور پر اپنے عزیز و اقارب کے لیے بھی مذکورہ چیزیں ساتھ لے جانا گویا یاترا کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ دشت کے عین وسط میں ایک چھوٹے سے تالاب میں یاتری اشنان کیا کرتے تھے۔ تالاب کے حوالے سے مشہور ہے کہ سردیوں میں اس کا پانی گرم اور گرمیوں میں سرد ہوتا تھا۔ آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ اس میلے کا اختتام ہوتا تھا۔

مگر افسوس کہ اب ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ سوات میں طالبانائزیشن کے بعد اب حکومتی رٹ بحال ہے مگر ایلم کی چوٹی ویران پڑی ہے۔ اس کے حوالے سے منفی تاثر پھیلایا گیا ہے کہ شورش کے دوران یہ طالبان کا گڑھ تھا۔ تاحال مقامی و غیر مقامی یاتریوں اور سیاحوں کے دل میں وہی خوف پل رہا ہے۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ریاستی دور (1917ء) سے پہلے یہاں پر ہندو اور سکھ یاتریوں کے لیے باقاعدہ طور پر رات کے قیام کا بندوبست تھا۔ چھوٹے چھوٹے جھونپڑی نما کوٹھے قائم تھے۔ 1917ء میں جدید ریاست سوات کی بنیاد ڈالی گئی۔ میانگل عبدالودود بادشاہ صاحب تخت پر بیٹھ گئے۔ چونکہ وہ مذہب سے خاص لگاؤ رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے جوگیانو سر میں یاتریوں کے لیے قائم تمام کوٹھے ختم کر دیے۔ لیکن آج مختلف شکلوں میں انہیں ایک بار پھر جگہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے جن میں خانہ بدوش موسم گرما میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ ان کوٹھوں میں رات گزارنے کے لیے یاتریوں یا سیاحوں پر کوئی پابندی نہیں۔

درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا ایک اور منظر۔
درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا ایک اور منظر۔
رام تخت کی حدود شروع ہوا چاہتی ہیں۔
رام تخت کی حدود شروع ہوا چاہتی ہیں۔
رام تخت پر پانی کے لئے بنائی گئی چھوٹی سی جگہ، ایک عام خیال ہے کہ یہ جگہ رام چندر جی کی بنائی ہوئی ہے۔
رام تخت پر پانی کے لئے بنائی گئی چھوٹی سی جگہ، ایک عام خیال ہے کہ یہ جگہ رام چندر جی کی بنائی ہوئی ہے۔
رام تخت کے نیچے قائم کھلا میدان جہاں ہندو اور سکھ یاتری قیام کرتے تھے۔
رام تخت کے نیچے قائم کھلا میدان جہاں ہندو اور سکھ یاتری قیام کرتے تھے۔
رام تخت کے نیچے قائم کھلا میدان جہاں ہندو اور سکھ یاتری قیام کرتے تھے۔
رام تخت کے نیچے قائم کھلا میدان جہاں ہندو اور سکھ یاتری قیام کرتے تھے۔
وہ چھوٹا سا تالاب جہاں ہندو اور سکھ یاتری اشنان کرتے تھے۔
وہ چھوٹا سا تالاب جہاں ہندو اور سکھ یاتری اشنان کرتے تھے۔

ایلم پہاڑ ضلع سوات اور بونیر کے سنگم پر واقع ہے۔ بالفاظ دیگر اس پر دونوں ضلعوں کا یکساں حق ہے۔ اس کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ یہ ضلع سوات، بونیر اور شانگلہ کا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ اس کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے چھ سات مختلف راستے ہیں۔ مگر دو راستے ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگ نسبتاً آسان اور محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایک راستہ درہ مرغزار سے سرباب گاؤں کے راستے ایلم کی چوٹی تک پہنچتا ہے، جو چھ تا سات گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا راستہ بھی درہ مرغزار ہی سے جوزو پاس سے ہو کر ایلم گاؤں تک پہنچتا ہے۔ وہاں سے آگے پانچ گھنٹے میں جوگیانو سر تک پہنچا جاسکتا ہے۔ یہ پیدل سفر سات تا آٹھ گھنٹوں کی طویل اور سخت مسافت کے بعد طے ہوتا ہے۔

سرباب گاؤں کا رہائشی تلاوت خان آج کل حصول رزق کے لیے سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ اس کے بقول میلے کے دنوں میں اس کی اور اس جیسے دیگر جوانوں کی مزدوری کھری ہوا کرتی تھی۔ ’’آج سے آٹھ دس سال پہلے یہاں ہندو اور سکھ بڑی تعداد میں اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے آیا کرتے تھے۔ جگہ جگہ عارضی چائے خانے کھل جاتے تھے۔ عمر رسیدہ یاتریوں کو ہم پالکی یا یہاں کی روایتی ڈولی میں بٹھا کر لے جایا کرتے تھے جس کی ہمیں ٹھیک ٹھاک مزدوری ملا کرتی تھی، مگر اب یہاں کوئی نہیں آتا اور ایلم کی چوٹی ویران پڑی رہتی ہے۔‘‘

تاریخ کے ساتھ شغف رکھنے والے ایک مقامی نجی کالج کے لیکچرار مظفر خان کے بقول ’’رام چندر جی ایلم کے پہاڑ پر گھنے جنگلات میں بن باس لینے کے ساتھ ساتھ یہاں پر خونخوار جانوروں کو رام کرنے کی غرض سے آئے تھے، جن کی وجہ سے یہاں کی مقامی آبادی تکلیف میں مبتلا تھی۔‘‘

سانپ کی طرح پن پھیلائے کھڑا پتھر۔
سانپ کی طرح پن پھیلائے کھڑا پتھر۔
رام تخت کے نیچے قائم میدان کا دوسرا منظر جہاں ہندو اور سکھ یاتری قیام کرتے تھے۔
رام تخت کے نیچے قائم میدان کا دوسرا منظر جہاں ہندو اور سکھ یاتری قیام کرتے تھے۔
کمرہ نما پتھر جس میں مقامی لوگوں کے کہنے کے مطابق رام چندر جی قیام پذیر رہے ہیں۔
کمرہ نما پتھر جس میں مقامی لوگوں کے کہنے کے مطابق رام چندر جی قیام پذیر رہے ہیں۔
رام تخت سے ضلع بونیر کا منظر۔
رام تخت سے ضلع بونیر کا منظر۔
وہ پہاڑ جہاں رام تخت قائم ہے۔
وہ پہاڑ جہاں رام تخت قائم ہے۔
واپسی پر راستے میں سرمئی شام کا ایک دلفریب منظر۔
واپسی پر راستے میں سرمئی شام کا ایک دلفریب منظر۔

اس حوالے سے پشتو کی ایک کہاوت بھی ڈاکٹر سلطان روم کی کتاب ’’متلونہ‘‘ میں صفحہ نمبر 183 پر رقم ہے۔ کہاوت پشتو زبان میں کچھ یوں ہے: ’’مار چی کامل شی، نوایلم طرفتہ مخہ کی۔‘‘ یعنی جب سانپ مکمل ہوجاتا ہے، تو ایلم کی جانب نکل پڑتا ہے۔ علاقائی لوگوں کے مطابق زیادہ خطرناک اور زہریلے سانپوں کو رام چندر جی پتھر کی مورتی میں تبدیل کیا کرتے تھے۔ کئی پتھر اب بھی جوگیانو سر میں ایسے ملتے ہیں جیسے کوئی سانپ پھن پھیلائے کھڑا ہو۔

علاقائی لوگوں کے مطابق ایلم پہاڑ جنگلات سے اٹا پڑا تھا، اس میں ہر قسم کی لکڑی دستیاب تھی مگر پچھلے بیس پچیس سال میں انہیں بے دردی سے کاٹا گیا۔ حکومتی رٹ بحال نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے جنگلات کا صفایا کیا گیا اور آج نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ایلم پر بمشکل بیس فیصد جنگل باقی رہ گیا ہے۔ جنگل کاٹنے کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ آج بھی لمبے لمبے درختوں کی جڑوں کو آگ لگا کر اسے سکھایا جاتا ہے تاکہ انہیں کاٹنے کا راستہ ہموار ہوسکے۔

ایلم گاؤں کے 80 سالہ فراموش کاکا جنگل کی بے دریغ کٹائی سے دلبرداشتہ ہوچکے ہیں اور اپنے گھر تک محدود ہیں ۔ان کے بقول اگر آج رام چندر جی نے دوبارہ جنم لیا، تو رو رو کر اپنا جی ہلکان کردیں گے کیونکہ ایلم وہ چوٹی نہیں رہی جو کبھی جنگلات اور جنگلی حیات سے بھرپور تھی۔

— تصاویر بشکریہ لکھاری


امجد علی سحاب فری لانس صحافی ہیں اور تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

امجد علی سحاب

امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو بطور مضمون پڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبصرے (22) بند ہیں

Mukesh Oct 29, 2015 08:45pm
thank you for valuable information.
Akhtar Gul Oct 29, 2015 09:19pm
Once we tried to climb up but the place is too high. This is very good that research based work is valued here.
Your Name Oct 29, 2015 09:25pm
very good
Aman uddin Khan Oct 29, 2015 09:32pm
Brilliant Interesting History. Thanks Amjad Sahaab and Dawan news.
Lakshmi Oct 29, 2015 09:39pm
Love to visit the site.
Salahuddin Oct 29, 2015 09:43pm
زبردست معلومات۔۔۔۔ اس پر مستزاد بہترین اور صاف تصاویر۔۔۔ ہم جیسے آرام پسندوں کے لیے کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔۔۔۔ بہت اعلی سحاب صاحب۔۔۔!!!
Benazeer Oct 29, 2015 11:56pm
Very intresting nd informative..i enjoyed aloot to read it..thank u
Honney.baloch Oct 30, 2015 12:02am
Very intresting nd informative ..i enjoyed alooot to read it ...thank u
حافظ Oct 30, 2015 12:28am
بہت خوب کاوش۔ اس جگہ پر آرکیالوجیکل ریسرچ ہونی چاہیے۔
محمد ارشد قریشی ( ارشی) Oct 30, 2015 12:32am
واہ کیا بات ہے بہت خوبصورت اور معلوماتی تحریر اور دلکش تصاویر
shah g Oct 30, 2015 02:19am
it is over beautiful. Lucky the people living in this area I am the most unlucky man on earth I have less fresh air to breath and impure water to drink and have no tree as it apartments all around my home.
نفیس مبارک Oct 30, 2015 07:20am
فیس بک پر لوگوں کے اس خبر پر منفی کمنٹس پڑھ کر بہت عجیب لگا، تنگ نظری کی انتہا ہے۔ رام چندر جی کو گالیاں دی جا رہی ہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی اللہ کے ولی ہوں اور ان کو ہندووں نے اپنا دیوتا مان لیا ہو، جیسے وہ اکثر کرتے ہیں، ہندوستان میں اولیاء اللہ کے مزارات اس بات کی مثال ہیں۔ اور پھر یہ تو ایک تاریخی چیز ہے، اس کو تاریخی اور علمی حوالے سے ہی دیکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 1947 سے پہلے ہندو ہی یہاں بستے تھے۔ اور انگریز کے ہندوستان میں آنے سے پہلے ہندو مسلم بھائی چارے کی مثالیں ملتی ہیں۔ اور ویسے بھی ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں دوسرے مذاہب کے احترام کا حکم دیا گیا۔ قرآن پاک میں ہے: و لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ، فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم۔ تم ان لوگوں کو گالیاں مت دو، جو اللہ کے علاوہ کی عبادت کرتے ہیں، [اس کے بدلے میں] وہ اللہ کو گالیاں دیں گے بغیر کسی علم کے۔۔۔ اس لیے آج کے دور میں انتہا پسندی، رجعت پسندی اور تنگ نظری سے دور رہ کر ہی ہم دنیا میں ترقی کرسکتے ہیں۔ ہمیں ایسے تحقیقی کاموں کو سراہنا چاہیے۔
Muhammad Zahir Oct 30, 2015 10:58am
Good work thumb up for ur information about Elum mountain .
Ikramullah Oct 30, 2015 11:03am
this is excellent feature. I hope that you will inform all of us from the sweet history of Swat and nearby beautiful surroundings. Allah bless you.
fairman Oct 30, 2015 05:23pm
I have also heard of a temple there.
Shabeeh Oct 30, 2015 07:20pm
Excellent
محمودنواز Oct 30, 2015 07:26pm
بہت ہی اعلیٰ اور بہترین انفارمیشن ہے،ایسے اچھے تاریخی مضمون آج کے دور میں کم ہی ملتے ہیں ۔ بہت اعلیٰ امجد علی صاحب ۔
Kamran Khan Oct 31, 2015 03:12pm
Very Nice... Please keep it up. We love Pakistan.
Javid Ahmad Oct 31, 2015 04:17pm
Excellent Thanks to the writer who is showing the hidden beauty and history of Pakistan
احسان علی خان Nov 02, 2015 09:21am
واہ کیا کمال ظرف کا مظاہرہ کیا ہے بعض لوگوں نے کمنٹس میں۔۔ ہمارے بزرگ بزرگ ہیں اور کسی دوسرے مذہب کے بزرگ کچھ اور۔۔؟؟
Muhammad Nazir Khan Nov 04, 2015 03:25pm
hendu and sikh should be motivate to visit kohe elum to yatra the Ramchander jee place of Muraqiba and facilitate them during their yatra to this place to maintain tolerance between the religious. Moreover, their should be strictly ban on the destruction of forest in Sawat and bonair Districts. Provincial Government should pay special attention in this regard. I am very thank full to Amjad Sahib to highlight such historical place.
sardeep kumar Nov 05, 2015 11:25pm
Great work, and also thanks for your valuble information to our new generation.