چمن کے ہندوؤں کی پر امن زندگی
بلوچستان کا سرحدی شہر چمن، جو پاکستان کو افغان صوبے قندھار کے علاقے سپن بولدک سے ملاتا ہے، چمن کا نام ایک معروف پھلوں کے ہندو تاجر چمن داس پر رکھا گیا، جو تقسیم ہند سے پہلے یہاں رہتے تھے، اس زمانے میں تین سے چار ہزار ہندو برادری کے افراد یہاں مقیم تھے اور اب تک یہاں کسی قسم کا مذہبی تصادم دیکھنے میں نہیں آیا۔ چمن کی ہندو برادری تجارت پیشہ ہیں اور پر امن انداز سے زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ ہفتے یہاں جنماشٹمی بھی منایا گیا، ہندو عقیدت مند یہ تہوار اپنے بھگوان کرشن کی پیدائش پر مناتے ہیں۔ تصاویر: مطیع اللہ اچکزئی
تبصرے (3) بند ہیں