مریم نواز کو خاموش رہنے کے کیا کیا فوائد مل سکتے ہیں؟


بدھ کو طویل خاموشی ٹوٹ گئی۔ وہ رابطہ لائن جس نے ابتدائی طور پر بہت سے لوگوں کے ساتھ بہت سارے وعدے کیے تھے وہ بحال ہوگئی۔ ایک طویل پُراسرار خاموشی کے بعد ایک ٹوئٹر ہینڈل میں پھر سے جان آگئی۔
اگرچہ یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ مریم نواز صاحبہ کے نام سے منسوب تھا لیکن اس پر ان کے مشہور والد کی تصویر لگی نظر آئی۔ مگر ان کے حامیوں نے یہ دیکھ کر بلاتاخیر ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو تسلیم کرلیا اور انہیں قیادت کا صحیح حقدار بھی ٹھہرایا۔
ہم تو سب ہی جانتے ہیں کہ ان کا یہ حق انہیں شریف خاندان میں ولی عہد کی حیثیت حاصل ہونے کے باعث درست قرار دیا جاتا ہے۔ یقیناً اپنے کیریئر کے اس اہم مرحلے کے دوران خاموشی کا جو سہارا لیا گیا وہ ایک بڑی مفید سیاسی چال ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ خاموشی محض اتفاق نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت معلوم ہورہی ہے۔ ان کی جماعت اس بات سے بخوبی آشنا ہے کہ اس خاموشی کی سرمایہ کاری سے زبردست منافع کمایا جاسکتا ہے۔
جو زیادہ تخیلاتی ذہن رکھتے ہیں، ان کے پاس اپنی کوششوں کو آزمانے کا اب بھی آخری موقع ہے۔ کئی پُرامید افراد اس حقیقت کا یہ اہم پہلو استعمال کرسکتے ہیں کہ صدمے پر چیخ و پکار کو اس سے پہلے کبھی اس قدر شدت کے ساتھ سنا نہیں گیا ہے۔
پاکستانی عوام میں بڑے پراسرار طریقے سے راتوں رات تبدیلی آچکی ہے جو مقبولِ عام دیسی طرز پر ضابطوں سے بھرپور حکمرانی پر صبر کیے رکھتے تھے۔
انہوں نے کسی نہ کسی طرح خود کو اس بات پر قائل کردیا ہے کہ یہ ملک، یہ قوم اور اس ملک میں موجود جمہوریت بااختیار اداروں سے اپنی موجودگی تسلیم کروانے کے سنہرے موقعے سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔
چند روایات ہمیشہ برقرار رہتی ہیں۔ جیسے حال ہی میں بغیر کسی مخالفت کیے اہم عہدوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے قانون کو منظور کیا گیا۔ اس منظوری نے سب کو اپنے دیے ہوئے دھوکے میں مبتلا کردیا، اور اب ہر کوئی جھوٹ موٹ کی حیرانی کا اظہار کررہا ہے۔ اس کے بعد معمول کی روایات کا سلسلہ شروع ہوگا۔
حزبِ اختلاف کو مسودے میں ترامیم کا موقع تک بھی نہیں دیا گیا۔ اس بات سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے ہاتھ اس وقت کتنے کھلے اور کتنے بندھے ہیں۔ جب حزبِ اختلاف کے سیاستدان ملک میں جمہوری روایات کے قیام کو ایک بار پھر سب سے مقدم ٹھہرانے کی کوشش میں اپنے اصولی مؤقف کی وضاحت پیش کرنا شروع کریں گے تو انہیں دُور رس نتائج کا اندازہ ہوجائے گا۔
اپنے وعدہ شدہ کردار کو ادا کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کی وجہ سے مریم نواز کو توسیع بھی مل سکتی ہے۔