اسرائیل کی اپنے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 40 روزہ جنگ بندی کی تجویز
اسرائیل نے اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے غزہ میں 40 دن کےلیے جنگ بندی کی تجویز پیش کردی۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیر کو ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
روزنامہ ’ ہاریٹز’ نے ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے مصر اور قطر میں ثالثوں کے ذریعے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس سے 11 یرغمالیوں کی رہائی اور 16 لاشوں کی واپسی کے علاوہ غزہ میں باقی قیدیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بدلے میں 40 دن کے لیے جنگ معطل کی جائے گی۔
روزنامہ نے کہا کہ جنگ بندی کے علاوہ، اسرائیل اپنی جیلوں سے غیر معینہ تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا۔
عہدیدار نے کہا کہ معاہدے کے پانچویں دن، اسرائیل حماس سے اپنی تحویل میں موجود باقی قیدیوں کے بارے میں معلومات طلب کرے گا۔
اسرائیل کی تجویز کے تحت، تل ابیب حماس سے معاہدے کے دسویں دن 16 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کرے گا، یہ غزہ میں حماس کے پاس موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد کا تقریباً نصف ہے۔
اسرائیلی تخمینوں کے مطابق غزہ میں 59 یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے 24 زندہ ہیں۔
اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ پر اسرائیل، حماس یا ثالثوں کی جانب سے کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا گیا۔
دریں اثنا، اسرائیل 9,500 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو ایسے حالات میں قید رکھے ہوئے ہے جنہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سخت قرار دیتی ہیں اور جس کے نتیجے میں اموات ہوئی ہیں۔
اسرائیل نے 18 مارچ کو جنوری میں ہونے والے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر ایک اچانک فضائی حملے شروع کیے اور اس وقت سے تاحال 1000 سے زائد فلسطینی شہید اور 2000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیلی فوجی حملوں میں 50000 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گزشتہ نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے لیے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسرائیل کو غزہ کے محصور علاقے میں جنگ پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔