فیشن کمپنیاں ہر سیکنڈ میں ٹیکسٹائل فضلے کا ٹرک پیدا کررہی ہیں
’زیرو ویسٹ 2025 کے بین الاقوامی دن‘ کا احاطہ کرنے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 92 ملین ٹن ٹیکسٹائل ویسٹ پیدا ہوتا ہے، جو کپڑوں سے بھرے کچرے کے ٹرک کے برابر جسے ہر سیکنڈ میں جلا یا لینڈ فل میں بھیج دیا جاتا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق اتوار کو منائے جانے والے ’زیرو ویسٹ ڈے‘ کے موقع پر فیشن اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں کچرے کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں اس شعبے کے لینیئر بزنس ماڈل کی وجہ سے زیادہ پیداوار اور ضرورت سے زیادہ کھپت کے ماحولیاتی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ٹیکسٹائل کی پیداوار اور کھپت میں تیزی سے اضافہ اس شعبے میں پائیداری کی کوششوں کو پیچھے چھوڑ رہا ہے ، جس سے خاص طور پر عالمی جنوب میں شدید ماحولیاتی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2000 سے 2015 کے دوران ٹیکسٹائل فضلے کی پیداوار دگنی ہو گئی جبکہ گارمنٹس کے استعمال کی مدت میں 36 فیصد کمی آئی جبکہ 11 فیصد پلاسٹک کا فضلہ کپڑوں اور ٹیکسٹائل سے آتا ہے، 2023 میں صرف 8 فیصد ٹیکسٹائل ری سائیکل شدہ ذرائع سے بنائے گئے تھے۔
اقوام متحدہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ زیرو ویسٹ اپروچ زیادہ گردشی طریقوں کی طرف ضروری منتقلی کی کلید ہے، کیونکہ پھینکے گئے کپڑے کم آمدنی والے ممالک میں اختتام کو پہنچتے ہیں، جہاں کچرے کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ڈمپنگ، جلانے اور سنگین ماحولیاتی اور معاشرتی نتائج کا باعث بنتی ہے۔
مزید برآں، شہروں میں ٹیکسٹائل اور فیشن کا فضلہ اکثر لینڈ فل میں ختم ہوتا ہے، جہاں اسے سڑنے اور نقصان دہ گرین ہاؤس گیسوں کو خارج کرنے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں۔
ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 70 ہزار 125.34 ٹن ٹیکسٹائل فضلہ پیدا ہوتا ہے جس میں سے 19 ہزار 304.58 ٹن کراچی سے پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان جرنل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے معاشی طبقے میں سب سے زیادہ ٹیکسٹائل کم آمدنی والے طبقے (کلاس سی) کی طرف سے ترک کیے جاتے ہیں، کلاس اے پلس میں سالانہ 195 کلو گرام کپڑے ضائع ہوتے ہیں جبکہ کلاس اے اور بی میں بالترتیب 150 کلو گرام اور 105 کلو گرام ٹیکسٹائل کا فضلہ ضائع ہوتا ہے۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل فضلے کے پائیدار انتظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ناکافی تکنیکی و مالی وسائل اور آگاہی کا فقدان ہے۔
مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم یافتہ لوگوں میں ٹیکسٹائل ویسٹ مینجمنٹ اور ری سائیکلنگ کے بارے میں آگاہی کی نمایاں کمی ہے، علم کا یہ خلا بنیادی طور پر محدود آگاہی مہموں اور اعلی تعلیم میں ماحولیاتی خدشات اور ٹیکسٹائل فضلے کی ری سائیکلنگ کے موضوعات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعتیں ٹیکسٹائل فضلے کی ری سائیکلنگ اور اس کے معاشی، ماحولیاتی اور سماجی مضمرات سے ناکافی طور پر واقف ہیں، اس وقت ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں ٹیکسٹائل فضلے کے پائیدار انتظام کے لیے مربوط نقطہ نظر کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں کچرے کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کے ماحولیاتی فوائد کے علاوہ اندرون ملک فروخت اور ری سائیکل ٹیکسٹائل کی برآمد کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے جیسے معاشی فوائد سے محروم ہو رہے ہیں۔
یو این ای پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انجر اینڈرسن نے کہا کہ ’غیر پائیدار فیشن آب و ہوا کی تبدیلی، فطرت، زمین اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان،آلودگی اور فضلے کے سہہ رخی بحران کو بڑھا رہا ہے‘۔
’ہمیں ایک گردشی معیشت کے نقطہ نظر پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو پائیدار پیداوار، دوبارہ استعمال اور مرمت کو اہمیت دیتا ہے. مل کر کام کرکے صارفین، صنعت اور حکومتیں حقیقی طور پر پائیدار فیشن کی حمایت کر سکتی ہیں اور ہمارے فیشن کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔